تم سے کیا کہوں
تم میرے کیا ہو
ہو دعا کوئی
کوئی بالا ہو
تم سے کیا کہوں
تم
میرے کیا ہو
چھوٹتا رہی
تم وہ نشاہ ہو
بینی سی راتوں میں چھمکے ایک تارہ جو
پہنچائے منزل پہ گمسہ کے نارا جو
دنلی سی رہوں کا
پہلا نظارہ وہاں ہو
تم سے کیا کہوں
تم
میرے کیا ہو ہو
چھوٹتا رہی
تم وہ نشاہ ہو
تم نہ تو ہم بھی نہ ہو تم جیسے آسمان
ہو اور میں زمین ہو تم جہاں میں وہیں ہو
بدلے موسم دل کے جاؤں جو تم سے مل کے
پھر بھی لگے کیوں جیسے اب بھی وہیں ہو
ہس کے ان بالوں کو تیرا سہلانا وہ کہنا کچھ
کرنا کچھ پھر بھولے جانا وہ خود ہی سہتانا وہ
پھر روٹھ جانا وہ
ہوں تم سے کیا کہوں
تم
میرے کیا ہو آئے نہ کہیں
تم وہ مزہ ہو
Đang Cập Nhật
Đang Cập Nhật
Đang Cập Nhật
Đang Cập Nhật