نجانے یہ حسن کیا ہے کی مشہور ہو گئی
سب عاشقوں کی صد پہ مجبور ہو گئی
ظالم بڑے ظلمی ہیں تبوچ لیتے ہیں
سر عام نگاہوں سے مجھے نوچ لیتے ہیں
مجھے نوچ لیتے ہیں
مجھے نوچ لیتے ہیں
من مار کے تھک ہار کے ٹوٹی جا رہی ہوں میں
تیرے عشق میں تیرے نام سے روٹی جا رہی ہوں میں
من مار کے تھک ہار کے
ٹوٹی جا رہی ہوں میں
تیرے عشق میں تیرے نام سے روٹی جا رہی ہوں میں
تیری ہو کہ کس کی ہو تیری ہو کہ کس کی ہو
اب مجھ کو خبر کہاں
اب مجھ کو خبر کہاں
مجھ
کو خبر کہاں
مجھ
کو خبر کہاں
ہسرت ہوں میں سب کی سب کو میری رات
چاہیے یہ مکملی ہے بدن میرا خیرات چاہیے
ہوا میں شور ہے محسن کو سر بھی میری ملاقات چاہیے
اس برز میں اس درد میں ڈوبی جا رہی ہوں میں
دونے لگایا مولے ہے کہ بکی جا رہی میں
میں لٹی جا رہی ہوں میں لٹی جا رہی ہوں میں آواری
پیا تم سے دل نہیں ہاری میں سب کچھ ہاری