نجانے یہ حسن کیا ہے کی مشہور ہو گئی
سب عاشقوں کی صد پہ مجبور ہو گئی
ظالم بڑے ظلمی ہیں تبوچ لیتے ہیں
سر عام نگاہوں سے مجھے نوچ لیتے ہیں
مجھے نوچ لیتے ہیں
مجھے نوچ لیتے ہیں
من مار کے تھک ہار کے ٹوٹی جا رہی ہوں میں
تیرے عشق میں تیرے نام سے روٹی جا رہی ہوں میں
من مار کے تھک ہار کے
ٹوٹی جا رہی ہوں میں
تیرے عشق میں تیرے نام سے روٹی جا رہی ہوں میں
تیری ہو کہ کس کی ہو تیری ہو کہ کس کی ہو
اب مجھ کو خبر کہاں
کہ خبر کہاں
کہ
خبر کہاں
میں سب کچھ ہارے
میں ہو گئی تمہارے
ہم
پھر ہو گئی تاکہ
کسی کو تیرے نام سے روٹی جا رہی ہوں
میں تمہارے حوالے میں ہوگئی تمہارے ہم
میں لٹی جا رہی ہوں میں لٹی جا رہی ہوں میں آواری
پیا تم سے دل نہیں ہاری میں سب کچھ ہاری