زخم دے کر میرے
زخموں کو میٹاتا ہے وہی
آگ سلگا کے میرے من
میں بجھاتا ہے وہی
زخم دے کر
میرے زخموں کو
میٹاتا ہے وہی
آگ سلگا کے
میرے من میں
بجھاتا ہے وہی
جس کے دیدار سے بے
نور ہوئی تھی یہ نگاہیں
اب ستم گر میری آنکھوں میں سماتا ہے وہی
زخم دے کر میرے زخموں کو میٹاتا ہے وہی
یہ گول ستا
یہ ہے گل شا یہ گول فشا
یہ چمن
یہ گول ستا یہ ہے گل شا یہ گول فشا یہ چمن
ساری کلیوں
کے لبوں پر مسکراتا ہے وہی
زخم دے کر میرے زخموں کو میٹاتا ہے وہی
آگ سلگا کے میرے من میں
بجھاتا ہے وہی
سب اوداسی
کے یہ لمحے ہے اسی کے
تو دیئے
سب
اوداسی
کے یہ
لمحے ہے اسی کے
تو دیئے
پر میں
روتا ہوں مجھے پھر
تو ہساتا ہے وہی
زخم دے کر میرے زخموں کو میٹاتا ہے وہی
دل جو
روٹھا ہے سبب
اس کا وہی ہے دانش
پھر یہ
روٹھے
ہوئے دل کو بھی
مناتا ہے وہی
آگ سلگا کے میرے من میں
بجھاتا ہے وہی