کیوں تو چھوڑ گیا اپنے یاروں کو اس طنح
کیوں تو روٹ سا گیا تھا اپنے
یاروں سے اس طنح
کتنی
راتیں ادھوری کتنی باتیں تھی ضروری
یاد
آتا ہے مجھے پار پار
میرے لئے سب سے تیرا لڑنا جگڑنا
یاد
آتی ہے مجھے تیری وہ آنکھیں
وہ
آنکھیں بنے تھے جس میں تو نے
خواب سارے
اب سب کچھ رہ گیا ادھورا
تیری کمی ہر پل
محسوس ہوتی ہے
تیری کمی ہر پل محسوس ہوتی ہے
کتنی راتیں ادھوری کتنی باتیں تھی ضروری
گر تُو مل جاتا تجھ کو بتاتا
کچھ دیر کو رک جا خدا را