دیکھوں تو سارا شہر
شناسا دکھائی دے
سوجھوں تو ایک شخص نہ اپنا دکھائی دے
وہ
کون ہے
جو دکھائی نہ دے
بھیل پی دل کے کسی اجنبی راستے پر
چلے جا رہا ہے
وہ
کون ہے
جو دکھائی نہ دے
وہی
قدموں کی آخر ملی
جس طرف بھی میں جانے لگی
کیسی صورت ہے یہ
اظہار ہی جو دکھائی نہ دے
بھیل پی دل کے کسی اجنبی راستے پر
چلے جا رہا ہے
وہ کون ہے
جو دکھائی نہ دے
تیری طلب نہیں مجھے اپنی تلاش ہے
شاید کہیں مجھے کوئی مجھ سا دکھائی دے
تیری
یادوں میں گم ہو گئی
جانتے ہو کہ تو
میرا نہیں
کیسے دھوکے میں میں خود آ گئی
جو دکھائی نہ دے بھیل پی دل کے کسی اجنبی راستے پر چلے جا رہا ہے
وہ کون ہے
جو دکھائی نہ دے
وہ کون ہے
جو دکھائی نہ دے