وہ شہر محابا جہاں مصطفیٰؑ ہے
وہی گھر بنانے کو دل چاہتا ہے
وہ شہر محابا جہاں مصطفیٰؑ ہے
وہی گھر بنانے کو دل چاہتا ہے
وہ سونے سے کنکر وہ چادے سے ماٹی
نظر میں وسانے کو دل چاہتا ہے
وہ شہر محابا جہاں مصطفیٰؑ ہے وہی گھر بنانے کو دل چاہتا ہے
جو پوچھا نبی نے کہ کچھ گھر پہ چھوڑا
تو سیدھی کے آنکھ بھر کے ہوتو پہ آیا
وہاں مال و دولہ کی کیا ہے حقیقت
جہاں جا لٹانے
کو دل چاہتا ہے
وہ شہر محابا جہاں مصطفیٰؑ ہے وہی گھر بنانے کو دل چاہتا ہے
جہاد محابا کی آواج گوجی کہا ہنزلہ نے
یہ دلہن سے اپنے
جہاد محابا
کی آواج گوجی
کہا
ہنزلہ نے
یہ دلہن سے اپنے
اجازت اگر دو تو جا میں شہادہ
بلوگو میں لگانے
کو دل چاہتا ہے
شہر محابا جہاں مصطفیٰؑ ہے وہی گھر بنانے کو دل چاہتا ہے
ستاروں سے یہ چاد کہتا ہے ہر دم تمہیں کیا بتا ہے وہ ٹکروں کا عالم
اشارے میں آکا کہ اتنا مزا تھا
کہ پھر ٹوٹ جانے
کو دل چاہتا ہے
وہ شہر محابا جہاں مصطفیٰؑ ہے وہی گھر بنانے کو دل چاہتا ہے
وہ سونے سے کنکر وہ چادی سے ماٹی نظر میں بسانے کو دل چاہتا ہے
شہر محابا جہاں مصطفیٰؑ ہے
وہی گھر بنانے کو دل چاہتا ہے