جس بے وفا کو خید صدا دیکھا پیار سے
جس بے وفا کو خید صدا دیکھا پیار سے
کوئی گئی ہے سینے میں خنجر اتار کے
کوئی گئی ہے سینے میں خنجر اتار کے
جس بے وفا کو خید صدا دیکھا پیار سے
جس بے وفا کو خید صدا دیکھا پیار سے
جس بے وفا کو خید صدا دیکھا پیار سے
کوئی گئی ہے سینے میں خنجر اتار کے
کوئی گئی ہے سینے میں خنجر اتار کے
کوئی گئی ہے سینے میں خنجر اتار کے
مس 365
ڈروس
ڈروس
ڈروس
ڈروس
ڈروس
ڈروس
ڈروس
ڈروس
ڈروس
ڈروس
ڈروس
رہتا تھا سوٹ بوٹ میں کوئی نہ تھی کا سر
ایک بار کی ہے بات تھا اپنی دکان پر
ایک لڑکی کھڑی ہو گئی تھی پاس آن کر
سل کر جو ٹانگیں سونت تھے اچھے لگے اسے
اس طرح دونوں میں بڑے باتوں کے سلسلے
مہناج اس کا نام تھا وہ تھی پڑھی لکھی
ننی حال اپنی آئی تھی بے حد تھی وہ خوشی
دونوں کے رشتے دار برادر بھی ایک تھی
لڑکی بڑی حسین تھی لگتی تھی نیک تھی
اے لڑ جو سونو نام کا اس پہ تھا مر گیا
اے لڑ جو سونو نام کا اس پہ تھا مر گیا
کرنے لگا تھا عشق وہ حد سے گزر گیا
کرنے لگا تھا عشق وہ حد سے گزر گیا
کرنے لگا تھا عشق وہ حد سے گزر گیا
موسیقی
مہناج جب بھی اپنی وہ ننی حال کو آتی
دیکھے بغیر سونو کو باپس نہیں جاتی
دونوں میں چل گیا تھا محبت کا سلسلہ
دونوں کا بڑھ گیا تھا بہت اب تو حوصلہ
مہناج بھی تو ہو گئی سونو پہ تھی فدا
باتیں وہ کرتی فون پہ سونو سے اب صدا
موسیقی
ایک روز جو مہناج
تھی ننی حال کو آئی
سونو نے اپنے گاؤں میں وہ خوب گھمائی
اس کو دکھائے باغ بھی اور کھیت دکھائے
لے جا کے اسے ایک میں گنے بھی کھلائے
سونو نے خوب فائدہ موقع کا اٹھایا
پکڑا تھا اس کا ہاتھ گلے سے بھی لگایا
ہوتوں پہ جو بھی پیاس تھی
بہترین بہترین بہترین بہترین بہترین بہترین
جو بھی مٹائی تھی جو آگ تھی جوانی کی
مل کے بجھائی تھی
لمحات یہ حسین تھے موسم بھی تا حسین
لمحات یہ حسین تھے موسم بھی تا حسین
سونو نے اپنے فون سے تصویر خیچ لی
سونو نے اپنے فون سے تصویر خیچ لی
سونو نے اپنے فون سے تصویریں کھینچ لی
دونوں کو ساتھ دیکھا تو بدنام ہو گئی
گاؤں میں پورے دونوں کی رسوائی ہو گئی
مہناج صبح ہوتے ہی اپنے شہر گئی
اس روز پورے گاؤں میں ہلچل مچی رہی
سونو نے ڈر کے مارے نہ کھولی دکان تھی
دشمن بنے پڑوسی تھے آفت میں جان تھی
کچھ لوگوں نے کرا دیا آ کر کے فیصلہ
سمجھا گیا
بجھا کے بات ہوئی تھی رفا دفا
لیکن نہ سونو مانا تھا لوگوں کی بات کو
مہناج کو بو فون کیا کرتا رات کو
وہ نہ اٹھاتی فون تو بکتا تھا گالیاں
کرتا بلے کی میل تھا دیتا تھا دھمکیاں
کہتا تھا وہ مہناج سے تو پا اٹھاؤں گا
تصویر تیری ساتھ
جہاں کو دکھاؤں گا
اچھا یہی مہناج میرا کہ نہ مان لے
اچھا یہی مہناج میرا کہ نہ مان لے
ورنہ برا میں حسر کروں گا یہ جان لے
ورنہ برا میں حسر کروں گا یہ جان لے
ورنہ برا میں حسر کروں گا یہ جان لے
مہناج نے کہا تھا
کہ مجبور ہوں بہت
بے حد میں پریشان ہوں
رنجو ہوں بہت
ماں باپ نے لگائی ہے
آنے پہ بندشیں
میرے خلاف ہو رہی ہیں
روز ساجشیں
ننحال کو جانا ہوا
اب میرا بند ہے
اپنا ملن نہیں
یہ کسی کو پسند ہے
سونو یہ بولا دیکھ
بہانے نہ تو بنا
میرے ہی نام کی ہے
رچانی تجھے ہی نہ
جینا میرا محال ہے
تیری جداہی سے
مر جاؤں گا میں ناج تیری
بے وفائی
سے
میں ناج بولی پیار میرا
تم یہ بھلا دو
تصویر تم پہ میری جو ان کو بھی جلا دو
میں پیار کو تمہارے نبھا پاؤں گی نہیں
ملنے بھی تم سے سونو میں آ پاؤں گی نہیں
مجبوریاں ہے میری اہد تول رہی ہوں
مجبوریاں ہے میری اہد تول رہی ہوں
کرنا نہ مجھ کو پون تمہیں چھوڑ رہی ہوں
کرنا نہ مجھ کو پون تمہیں چھوڑ رہی ہوں
کرنا نہ مجھ کو پون تمہیں چھوڑ رہی ہوں
سونو نے کہا چھوڑنے دوں گا نہیں تجھے
رشتہ کبھی توڑنے دوں گا نہیں تجھے
مہنا جو غصہ ہو گئی اور فون کٹ گیا
سونو کی باتیں سن کے جی کر اس کا بھٹ گیا
سونو جو کرتا فون اٹھاتی نہیں تھی وہ
چھپ چاپ رہتی کچھ بھی بتاتی نہیں تھی وہ
سونو نے اب مہنا جی کے سنگ میں برا کیا
عزت کی فقری کی نہیں رسوا بہت کیا
تصویروں کو مہنا جی کی وہ عام کر دیا
اس کو زمانے بھر میں تھا بدنام کر دیا
گم سم جو دیکھا بھائی نے تو اس سے یہ کہا
کیا ماجرہ ہے اے بہن مجھ کو ذرا بتا
رہتی تو غم زدہ ہے کیوں کیسا ملال ہے
مہنا جی تو نے اپنا بنایا کیا حال ہے
مہنا جی بولی بھائی کیا تجھ کو بتاؤں میں
مہنا جی بولی بھائی کیا تجھ کو بتاؤں میں
تل کا برا ہے حال تجھے کیا سناؤں میں
تل کا برا ہے حال تجھے کیا سناؤں میں
مہنا جی بولی بھائی کیا تجھ کو بتاؤں میں
سونوں کی جو مہناج نے کردود بتائی
سنتے ہی کہانی تو آیا تیش میں بھائی
مہناج کے بھائی نے کہا نہ ملال کر
خاموش رہنا تو بہن اپنا خیال کر
جلدی ہی سبق سونوں کو بہنا سکھاؤں گا
تو غم نہ کر میں اس کو ٹھکانے لگاؤں گا
اب اس نے لیا دوست تھا ایک اپنے ساتھ میں
لے کر چھرا گیا تھا چھپا کر وہ ہاتھ میں
سونوں کو پھر بہانے سے اس نے لیا لیا
پہلے تو بولا پیار سے بولا نہیں بورا
باتیں بنا کے اس کو وہ جنگل میں لے گیا
آیا تھا اپنی رنگ میں وہ اس نے تھا یہ کہا
میری بہن کے کس لیے پیچھے پڑا ہے تو
میں بھی تو دیکھوں کتنا بڑا سوما ہے تو
اتنا ہی کہہ کے مار دیا اس نے اب چھرا
اتنا ہی کہہ کے مار دیا اس نے اب چھرا
چھوٹا پھوارا پھون کا اور کٹ گیا گلا
چھوٹا پھوارا پھون کا اور کٹ گیا گلا
چھوٹا پھوارا پھون کا اور کٹ گیا گلا
موسیقی
سونوں کی لاش
فینک کے دونوں چلے گئے
دشمن کو ختم کر کے بہت ہی وہ خوش ہوئے
مہناج کو سنائی تھی جا کر جو یہ خبر
آنکھوں میں آنسو آ گئے دامن ہوا تھا تر
مہناج بولی بھائی ستم یہ گزار کر
اچھا نہیں کیا میرے سونوں کو مار کر
میں نے تو بس کہا تھا کہ تم
اس کو ڈاٹنا
میں نے یہ کبھی کہا تھا کہ تم
جان سے مارنا
کچھ دیرے بعد ان کے گھروں میں پڑی تبش
بھر کر کے کئی گاڑیاں آئی وہاں پولیس
سب کو ہی گرفتار کر کے ساتھ لے گئی
یہ جرم تھا سنگین سزا سب کو ہو گئی
مہناج کی جو بات کو سونوں وہ مانتا ہے
مجبوریاں سمجھتا اگر زدنا ٹھانتا
ہوتا نہ اس کا قتل نہ بنتی یہ کہانی
آنکھوں سے برستا نہیں یہ فیض کے پانی
آنکھوں سے برستا نہیں یہ فیض کے پانی
آنکھوں سے برستا نہیں یہ فیض کے پانی
آنکھوں سے برستا نہیں یہ فیض کے پانی
Đang Cập Nhật
Đang Cập Nhật