عاد سارے توڑ ڈالے
لمحے سب بلاڈا لے
لوٹا ہو دل یہی پکارے
کہ وفا تُو نبھالے مجھ کو اپنا بنا لے
تو
عاشقی تھی
یوں بدل گیا کیا دمی تھی
کیا میرے پیار میں وفا نہیں تھی
کیا کیا ہم تیرے سہارے
تجھی پہ سب کچھ ہیں ہارے
کہ وفا تُو نبھالے
خط ہو جلا ڈالے نام سب مٹا ڈالے
رستے بھی بدل ڈالے کھو دیئے اپنے او جالے
کہ وفا تُو نبھالے مجھ کو اپنا بنا لے
کہ
وفا تُو نبھالے دل میں مجھ کو
بسا لے