پھر سے گھوموں تیری راہوں میں
اور تو بیٹھی ہوئی فیضاؤں میں
موت کے رستے پہ میں چلتا جا رہا
مسمرنا چاہوں تیری باہوں میں
تو آئی نہ تیرا انتظار کرتے گئے
دیرے دیرے وہ خواب سارے مرتے گئے
ہم تیرے لیے جانم اس دنیا سے لڑتے گئے
آخر میں تیرے انداز بھی کیوں بدلتے گئے
میں آکے تیرے پاس پیلے شکوے کرنا چاہوں
اور کھونے سے جانا میں تجھے بہت ڈرڈا ہوں
تو چاہے کسی اور کوئی سوس کے مرتا ہوں
میں تیری باتیں ان دیواروں سے ہی کرتا ہوں
جب پیتا شراب تیرے آتے مجھے خواب
مجھے ہستنے سے لے کے ساری باتیں تیری آتھ
ہم ملتے شام کو وہ جگہ بھی ہے یاد
جو یاد نہ رہا مجھے گسیل وہ انداز
اظہار کیا میں نے ملا تھا اندار
ہواز بھی نہ نکلی تجھے دے لی تھی پکار
تیرے لیے باغی ہو گئے سارے میرے یار
پر راج بھی ہے تجھ سے مجھے پہلے والا پیار
کھائی پیار کی قسم اٹھائی یہ کلم
سیاہی ہے مرن پرپردانی زکم
لہجا تیرا نرم اور اچھے ہیں کرم دنیا کا ہے یہ بھرم میں دیکھو نہ دھرم
نہ میں گالب نہ میں جون پتہ نہیں میں کون تیرے
آگے رہتا ہوں نور پنوں پہ شور تیرے نام کا
تیرے سیوا کوئی نہیں جانتا پر تجھے نہیں پتا تجھے گوان سے ہوں مانگتا