خارزو کے صوفے پہ جو بیٹھ کے کبھی
حسرتوں کے خواب یوں ہی پھاکتے ہوئے
آرزو کے صوفے پہ جو بیٹھ کے کبھی
حسرتوں کے خواب یوں ہی پھاکتے ہوئے
غربتوں کے کون کو ہے جھاڑتے سہی
دل کے کمرے کا میرے حال دیکھی زرعہ سا حال دیکھیئے
غر دکھائی میزیں اور ٹوٹی پوٹی کرسیاں
اپنے اس عدد سے دل کی ہے یہی کہانیاں
ایک ٹپکتی چھت ہے اور کچھ کھڑکتی کھڑکیاں
اپنے اس عدد سے دل کی ہے یہی کہانیاں
دور یوں چلا ہے دل بے قرار کا گھر یہ اپنے دل کا زار زار ہے پڑا
دور یوں چلا ہے دل بے قرار کا گھر یہ اپنے دل کا زار زار ہے پڑا
مفلسی صحی جو تشریف لائیں گے آپ کی
حضوریت میں پیش کریں گے ضرور پیش کریں گے
ایک پیالی چائے
ایک پیالی چائے اور کچھ خیالی چسکیاں
اپنے اس عدد سے دل کی ہے یہی کہانیاں
غر دکھائی میزیں اور ٹوٹی پوٹی کرسیاں
اپنے اس عدد سے دل کی ہے یہی کہانیاں
کھلی ڈائیری سریخ دل ہے یہ غریب اس کے کچھ صفوں پہ اپنا نام ڈھونڈیے
کھلی ڈائیری سریخ دل ہے یہ غریب اس کے کچھ صفوں پہ اپنا نام ڈھونڈیے
پن بکھرے ہوئے سمیٹ لوں زرہ تب تلک درازوں میں بھی جھاک لیجیے
زرہ سا جھاک لیجیے
آدھی ایک نظم
آدھی ایک نظم اور ادھوری کچھ کہانیاں
اپنے اس عدد سے دل کی ہے یہی روانیاں
ٹیڑھ میڑھ فیم فوٹو پہ لگی ہے جالیاں
ایک نتھر ایلا سیکڈا اپنے اس عدد سے دل کی ہے یہی کہانیا Susan
تک کچھ کھچکٹی کھڑکیہ اپنے اس عدد ساری ہے یہی کہانیاں
اور ٹوٹی پھوٹی کرسیاں
اپنے اس عدد سے دل کی
ہے یہی کہانیاں
03:24