تیری امید تیرا انتظار جب سے ہے
تیری امید تیرا
انتظار
جب سے ہے
نہ شب کو دن سے شکایت نہ دن کو شب سے ہے
تیری امید تیرا انتظار جب سے ہے
اے اے اے
کسی کا تردہ کرتے ہیں
تیرے نام رقم
کسی کا تردہ کرتے ہیں تیرے نام رقم
کلاہ جو بھی کسی سے تیرے سبب سے ہے
تیری امید تیرا انتظار جب سے ہے
ہوا ہے جب سے دلیں ناسبور بے قاب
بے قاب
بے قاب
بے قاب
جب سے
دلیں ناسبور بے قاب
کلام تجھ سے نظر کو
بڑے عتب سے ہے
تیری
امید تیرا
انتظار جب سے ہے
اگر شرر
ہے تو بڑھ کے
جو پھول ہے
تو کھلے
کھلے
کھلے
اگر شرر ہے تو بڑھ کے
جو پھول ہے
تو کھلے
ہر ہاں ترہا کی
طلب تیرے رنگ لب سے ہے
تیری
امید تیرا انتظار
جب سے ہے
کہاں گئے شب فرقہ کے
جاگنے والے
کہاں گئے شب فرقہ کے جاگنے والے
ستارے سہری
ہم کلام کب سے ہے
تیری امید تیرا
انتظار
جب سے ہے
شکریہ