دل وہی سکون دونڈے
ویسا ہی قرار مانگے
جو قدرت نے بکھیرے تھے بس میری راہوں میں
اور قسمت نے سجائے تھے میری نگاہوں میں
جانے اب کہاں ملے گا کہاں چھپا ہوگا
مل جاتا تو رکھ لیتا میں اپنی پناہوں میں
سکون شاید مجھ سے ہی ہے مجھ میں ہی تھا اور مجھ میں ہی ہے
سکون سکون
راکھ لو خود میں ذرا
سب کچھ ہے اندر میرے لہروں پہ ملتا نہیں جو
گہرے سمندر ملے
محسوس ہوگا مجھے جب خود کو پہچانوں گا دل کے اندر دیکھ کر
اپنی روح کو جانو گا
دوبے گا دوبے گا دوبے گا تو تر جائے گا ہر سر را میرا
ہر سر را میرا
ورنہ تڑپ کے ہی گزرے گا روز مرنا میرا
کیا میں نے کبھی کیا ہے
تھوڑا عشق بھی خود سے مل جائے گا پھر جو
سکون
شاید مجھ سے ہی ہے
مجھ میں ہی تھا اور مجھ میں ہی ہے
سکون
شاید مجھ سے ہی ہے
مجھ میں ہی تھا اور مجھ میں ہی ہے
سکون مجھ سے ہے مجھ میں ہے سکون
سکون
سکون