عاشق آگئے اپنی پر تو دنیا ہلا دیں گے
تو صبر نہ دیکھ فقیروں کا ہم محل جلا دیں گے
ہم اپنے لوٹ گئے ہم بھی ایسے ٹوٹ گئے
تیرے گم میں اکثر یارہ ہم شب ہی پڑھتے رہتے ساکھی چھوڑ دے ان کو
وہ تو اور ہی دنیا میں ہیں اوقات دیکھ
لے اپنی بھی اور ان کی بھی مجھ کہتے
میں تو ان کے ناکروں جیسا بھی نہیں وہ بھی مجھ سے
اچھے ہیں وہ شہزادیں اور راج کماروں کی دنیا میں رہتے
وہ ہی رومے میں لیروں میں میں دعا کروں بس پیروں میں
جو شہزادوں میں ہوتے ہیں وہ کہاں ہوتے تقدیروں میں
بس ان کی خبر ہے آئی وہ آئے نہ ہرجائیں میری
اکھا ترسگی دیکھنے پر انہوں شرم دایا آئی
اودی تارف وچ کی لکھ دا انہوں پنڈا کیمیں سکھ دا
میری اکھا ترسیاں دیکھنے نو اب آنسو بھی نہیں بیتے
ساکھی چھوڑ دے ان کو وہ تو اور ہی دنیا میں ہیں
اوقات دیکھ لے اپنی بھی اور ان کی بھی مجھ کہتے
میں تو ان کے ناکروں جیسا بھی نہیں وہ بھی مجھ سے
اچھے ہیں وہ شہزادیں اور راج کماروں کی دنیا میں رہتے
رکھ بندی چاہے بنا کے
رکھ کے دن چتری لجا کے
جد رب ہی من بیٹھے ہیں پھر فیدا کی مجھ تاکے
او میرے یار کوئی سمجھاوے او ڈا آشک رہنا پاگ
او نو آشک ملن ہزاراں پر کوئی شایر نہ اکھواوے
دولت والے ہوں گے تیرے لیے درت نہ سہتے
اب گمی کو دیکھ کے لوگ سارے اے اللہ اے اللہ کہتے
ساکھی چھوڑ دے ان کو وہ تو اور ہی دنیا میں ہیں
اوقات دیکھ لے اپنی بھی اور ان کی بھی مجھے کہتے
میں تو ان کے ناکر جیسا بھی نہیں وہ بھی مجھ سے اچھے ہیں
وہ شہزادیں اور راج کماروں کی دنیا میں رہتے