تو ہے رکھتا کمل اس مزار کا
تو ہے ایک خوبصورت فل میری اس روگ کا
منجلے تو بہت آتی ہیں جاتی ہیں
تو میل کا پتھر ہے میری اس راہ کا
روگ لگیا تھا پیار کا تیرے
ان احساس کی کمی نہ پوری ہو پاوے
محو چھوڑا تھا عشق کا تیرے
تیرے احسانوں کی زندگی نہ اب جی جائے
نہ جی جائے
میں
شاعر بن گیا تیرے الفاظوں کا
یوں
چلتا رہا میں بے نام سا
میں
شاعر بن گیا تیرے الفاظوں کا
یوں چلتا رہا میں
بے نام سا
میں
کہنا سکا تو
سننا سکی
تیرے احسانوں کی زندگی نہ
جی
جائے نہ جی جائے
میں
قابل تھا تیرے ان ملاقاتوں کا
کیوں جلایا ہے مجھ کو یوں بے جان سا
میں درپن ہوں تیرے
ان خوبوں کا
تیرے احسانوں کی زندگی نہ جی جائے
نہ جی جائے
روگ لگیا تھا پیار کا تیرے
ان احساس کی کمی نہ پوری ہو پاوے
چھوڑا تھا عشق کا تیرے احسانوں کی زندگی نہ
جی جائے
نہ جی جائے
منہوں کی دنیا میں بچھڑنا بھی ہوتا ہے تڑپنا بھی ہوتا ہے
پر منہوں کی اس چاہا میں سچا پیار کامیاب ہوتا ہے
منہوں تو دھوکا ہے کبھی پیار مت کرنا
کبھی وقت ملے تو اس شاعر کو
بدنام مت کرنا
بدنام مت کرنا