خود کو راہ منزل پہ
جب رواں دواں دیکھوں
راستوں کے سینوں پہ
نقش رفتگاں دیکھوں
ایک زمانہ وہ بھی تھا ہے
منزلوں سے دوری تھی
قافلے میں رہ کر بھی
رسم رہ براں دیکھوں
انسانوں کی بھیڑ میں
رستہ بھول گئی
دیوانوں کی بھیڑ میں
رستہ بھول گئی
دل کے دل سے جانے کیسے یہ رشتے ہیں
گمسم راہوں پہ سائے چلتے ہیں
تنہا تنہا تھی میں رستہ بھول گئی بھول گئی
انسانوں کی بھیڑ میں رستہ بھول گئی
دیوانوں کی بھیڑ میں رستہ بھول گئی
جانے کیسے یہ
کیسا ہے جادو
کیسے رستے ہیں
بند
آنکھوں سے راہی
سارے چلتے ہیں
چلتے چلتے دور پہ رستہ بھول گئی بھول گئی
انسانوں کی بھیڑ میں رستہ بھول گئی
دیوانوں کی بھیڑ میں
رستہ بھول گئی
رستہ بھول گئی