اے سنو آنے والے سال اللہ تمہاری زندگی میں اتنی خوشیاں بھر دے کہ تم خود حیران ہو جاؤ
آ رہا ہوں میرے دوست دو ہزار پتیس میں پھر سے اپنے گاؤں
اور دل سے نکال سکو تو مانے ہم یوں چھوڑ جانا تو کوئی کمال نہیں
کاش کسی امیر باپ کے اکلوتے بیٹے کو نہ مجھ سے عشق ہو جائے
اور پھر اس لڑکے کا باپ نہ چالیس پچاس کڑور میرے موں پر مارے اور بھولے دفع ہو جا میرے بیٹے کی زندگی سے
گتی دسمبر نور رات یارہ واج کے انٹھا منٹا تے کوئی بندہ واش روم نہ جائے
نہیں تے تسی اگلے سال واپس آوگے
کہ آج آخری جمعہ وہاں اس سال دا
اللہ باکر اس آخری جمعہ دے صدقے نال
سنے باپ دا
سادہ سانڈے سیرتے سلامت رکھی ربا
میرے جان سال بدلنے والے ہیں اگر مجھ سے کچھ قائد ہے
تو برداشت کرو سال بدلے گا میں نہیں
اتنا بڑا ٹک ٹوک اور میں کسی کا بھی فیورٹ نہیں
یہ بھی ایک قیامت کی نشانی ہے
اور گھر والے کہتے ہیں کبھی ہمارے ساتھ بھی بیٹ جائے کرو
اور بیٹ جاؤ تو بیزتی کے بغیر نہیں چھوڑتے
ربا بڑا ہی چنگا لگتا ہے تیرے کو لو مانگنا
سدھا اپنے دردہ مانگتا ہی رکھی
کدھی کسی دا متعاج نہ کری
ہائے رونے کے ختم ہوئی مرشاد
او مرشاد میری ہنفری کی ایک سائید خراب ہو گئی
نیا سال میں آپ اپنے دوستوں سے کیا کہیں گے
جی ہم اپنے دوستوں سے کہیں گے ہیپی نیوئیئر
کونسا کلر کے پہنے ہو انڈر بیئر
بتاؤ میرے ڈیئر
او مطلبیو جی کوئی مطلب رہ گیا تک کٹ لو
نوہ سال آنا رہا ہے
کیوں؟
کی پتہ اگلے سال اسی
سیانے ہو جائیے
آج کل لوگ جذبات سے کھیلتے ہیں
اور میں نے پب جی کھیلنا بہتر سمجھا
دوستو نئے سال کی دعا
اللہم ادخل ہو علینا
بلامن والایمان والسلامتی والاسلام
ورزوان مین الرحمن وجوار من الشیطان
جب کوئی مسلمان نئے سال پر یہ دعا پڑتا ہے
تو شیطان چیختا ہے اور کہتا ہے
ہائے اس نے ہم سے اپنا ایمان بچا لیا
اور دو فرشتے پورا سال پڑھنے
والے کی حفاظت کرتا ہے
میں کیوں کہوں اسے
کہ مجھ سے بات کر لے
اسے نہیں پتا
کہ میرا اس کے بغیر دل نہیں لگتا
کوئی چاہے جتنا بھی خوبصورت ہو
اگر وہ مکلس نہیں تو فقط کچھ رہا ہے
میں جی ایف لکھوں
مجھے جی ایف مل جائے
ارے آج تک ایسی کوئی تھنڈ نہیں بنی
جو سادیوں میں لڑکیوں کو سویٹر پہنا سکے
انشاءاللہ
اکیلو
ایک دن وہ بھی آئے گا
جس کا مجھے اور آپ کو بے سبری سے انتظار ہے
انشاءاللہ
میرا بگڑتا لہجہ دکھتا ہے سب کو
میری بگڑتی ہوئی زندگی کسی کو نظر ہی نہیں آتی
دیکھو اپنے آپ کو
میرے ساتھ رہ رہے کہ
تم بھی اچھے بندے بنتے جا رہے ہو
بگڑتا لہجہ نظر آتا ہے سب کو
بگڑتی ہوئی زندگی کسی کو سمجھ نہیں آتی
کوئی چاہے کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو
اگر وہ مخلص نہیں
تو فقط کچھ رہے
یا اللہ سلامت رکھنا
میرے لاد اٹھانے والے والدین
اور بدتمیزی کا جواب تمیز سے دے کر
ہم انہیں اپنی اور ان کی تربیت کا
فرق دیتے ہیں
سچ بتانا ایک سوال ہے سب سے
کتنے سال زیاں کیے ہیں
ایک شخص کے پیچھے
اور دل سے خوبصورت لوگ
قسمت سے ملتے ہیں
آج صرف وہ لوگ کمنٹ کریں
جن کو پیار میں دوخہ ملا ہے
دیکھتے ہیں کہ کون زیادہ بے وفا ہے
لڑکے یا پھر لڑکیاں
سکینہ ہے
کہ نہ دیا کر درد ہے زندگی
اور کسی کے پاس چھپ کرانے کے لیے
ہم درد نہیں ہوتا
ہم بدنصیب لوگ
کسی کو کیا یاد آئیں گے
ہم تو درد لے کے بھی
مسکرانے کی ادا رکھتے ہیں
جب کوئی جا کر واپس آئے
روئے تڑپے یا پچتائے
میں پھر اس کو ملتا نہیں
ساتھ دوبارہ چلتا نہیں
گم جاتا ہوں
کھو جاتا ہوں
میں پتھر کا ہو جاتا ہوں
بات نہیں کرنی تو مت کر
کہ بات نہیں کرنی
تو مت کر
چہرہ تو پہچانو مارا
کہانی ختم ہوئی مرشد
ہمارا شہزادہ
کسی اور کا دیوانہ نکلا
تو کسی اور کا ہو گیا
میری آنکھوں کے سامنے
تو میرا سبر دیکھ
میں آج بھی مسکراتا ہوں
یہ جو برائیاں دیکھتی ہیں مجھ میں
بہت سی اچھائیوں کے بعد آئی ہے
امی کہتی تیرا بیعا کرنا ہے
میں اکھیا چھٹو پر آیا
کی پرائیاں منڈا تباہ کرنا ہے
آپ لوگ مجھے آٹھ نو دن کا ٹائم تو دو
آئیکھا
پورا سال نہ بدل دوں تو کہنا
پانی میں ہے چائے
چائے میں ہے شکر
جلدی بتاؤ کس کے ساتھ ہے تمہارا شکر
موبائل
ائر فون
چارجر اور دل
کسی کو نہیں دینا چاہیے
خراب کر دیتے ہیں
میری چوتی کو بھی فرق نہیں پڑتا
وہ میری گیر موجود کی میں
کس کے پاس گیا
کون میری جگہ بیٹھی
چونکہ جنگل میں اگر شیر نہ ہو
تو قبضہ کتھے کر لیتے ہیں
میں نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے
اس میں بس دو ہی نکتے ہیں
اور آج آپ بتائیں
چہرہ خوبصورت ہونا چاہیے
یا دل
کسی اور کا ہو کر کہتا ہے
کسی اور کا ہو کر کہتا ہے
تمہاری جگہ کوئی اور نہیں لے سکتا
جادہ فون چلانے سے آگے خراب ہوتی ہیں
اس لئے میں صرف ایک ہی فون چلاتا ہوں
تھوڑی تمیز سے بات کرنا ہم سے
کیونکہ بڑے بتمیز ہے ہم
اور جب کسی کے نصیب میں سکون لکھ دیا جائے
تو اللہ اسے آپ جیسی محبت سے نوازتا ہے
ساری دنیا بے شک ہی خلاف ہو
اگر شوہر ساتھ ہونا
تو بیوی شیر نہیں ہوتا ہے
میں کیا ہوں تیرے لیے
یہ تو تیرا دل ہی جانتا ہے
مگر اس شور بری دنیا میں
تو سکون ہے میرے لیے