تیرے خیال میں بھیگتی ہے شام
جیسے ہو خوشبو جیسے ہو بیغان
خنہ سا ہر پل گزرتا گیا
ہر ساس میں تیرا ہی نام رہا
تم ساتھ ہو تو ہر راہ حسین لگے
دوٹی ہوئی دھڑکن بھی ایک ساز لگے
ہر صورت میں بس نور تیرا ہو
تیرے بنا تو خود سے بھی ڈر لگے
چپ چاپ سے لمحے کچھ کہنا سکے
عشقوں کے کسے بھی سن نہ گئے
باتوں کا راز تو ہے مٹی میں چھپی ہے
آواز تو ہے
دل نے تیری آدھوں کو محفل بنا لیا
ہر درد کو تیری مسکرات سے
سجا لیا
ہاموشیوں میں بھی تھا ایک نغمہ تیرا میں نے توٹھ کے بھی تیرا
سرا لیا
تم ساتھ ہو تو ہر راہ حسین لگے
دوٹی ہوئی دھڑکن بھی ایک ساز لگے
ہر صورت میں بس نور تیرا ہو
تیرے بنا تو خود سے بھی ڈر لگے
فقد کی لہروں میں
کچھ باتیں تھی
جو کہنی تھی
بس رہ جاتی تھی
پھر بھی دل کے ویرانوں میں ایک تجھ میں ہی بسی
کائناتیں تھی
تم ساتھ ہو تو ہر راہ حسین لگے دوٹی ہوئی دھڑکن بھی ایک ساز لگے
ہر صورت میں بس نور تیرا ہو
تیرے بنا تو خود سے بھی ڈر لگے