ٹھہرے سہہ میں تھے ہم
فضول سوالوں میں اُلچھے ہوئے
خوشیوں کی دستک پر بھی شک کی نظریں
ٹھہرے سہہ میں تھے ہم
جاگے سوئے سے تھے ہم
کل کی خواش میں بہہ گئے
خواب ڈھوٹا تو ایک قدم بھی تھے نہ چلے
جاگے سوئے سے تھے ہم
اھا....
نازک پکھرے ستم
خود سے لڑنے کی ہمت کی سدھر گئے
نہ جانے کب سے تھے خود کے ہی دشمن
نازک پکھرے ناپ