غم زندگی کے تو مارے ہوئے ہیں
نصیبوں سے اپنے بھی ہارے ہوئے ہیں
غم زندگی کے تو مارے ہوئے ہیں
نصیبوں سے اپنے بھی ہارے ہوئے ہیں
غم زندگی کے تو مارے ہوئے ہیں نصیبوں سے اپنے بھی ہارے ہوئے ہیں
نصیبوں سے اپنے بھی ہارے ہوئے ہیں
ملے داگ دل ہی محبت سے ہم کو علم اپنی راتوں کے تارے ہوئے ہیں
کبھی کھو گئے راستے منزلوں کے کبھی دور ہم سے کنارے ہوئے ہیں
مداوا یہی ہے
غم زندگی کا
نصیبوں سے اپنے بھی ہارے ہوئے ہیں
غم زندگی کے تو مارے ہوئے ہیں
نصیبوں سے اپنے بھی ہارے ہوئے ہیں
نصیبوں سے اپنے بھی ہارے ہوئے ہیں
بچھڑنا ہے تجھ سے تو
مشکل ہمارا
تیرے سنگ برسوں
گزارے ہوئے ہیں
محبت کی راہوں میں سب کچھ لٹا کے نہ اپنے رہے نہ
تمہارے ہوئے ہیں
لگی آگ سینے میں
کیسے بجھاؤں تیرے خواب دل
میں اتارے ہوئے ہیں
غم زندگی کے
تو مارے ہوئے ہیں
نصیبوں سے اپنے بھی ہارے ہوئے ہیں
نصیبوں سے اپنے بھی ہارے ہوئے ہیں