Nhạc sĩ: Rohit Kumar | Lời: Rohit Kumar
Lời đăng bởi: 86_15635588878_1671185229650
نام ہی کافی ہے جب مان ٹوٹ جائے
نام ہی کافی ہے جب راہ کھو جائے
بھیڑ میں اکیلا ہوں شور بہت ہے چاروں
اور دل میں سوال ہزار ملتے جواب زور
کس سے کہوں یہ ڈر کس سے کہوں یہ بات جب سب نے مو موڑا تب تو ہی تھا ساتھ
دنیا بولے طاقت رکھ خود ہی سب کرے پر ٹوٹے جب اندر سے تب کون بنے
ڈھال سر تب یاد آتا ہے بس ایک ہی نام جو چپ چاپ سن لے ہر روتا انسان
تیرا نام ہی کافی ہے
ہر درد کو ہرنے کو
تیرا نام ہی کافی ہے
اس من کو سنبھالنے کو
نہ دکھاوے کی بھکتی نہ اونچی آواز دل سے جو پکارے وہی پوچھے تیرے پاس
گلتیاں بہت ہے میں مانتا ہوں آج پر گر کے اٹھنا بھی
تُنہیں سکھایا ہر بار کبھی دہرے بن کے آیا کبھی بھروسہ بن
کبھی چپ سی رہتا کبھی حوصلہ بن جب ہار مانے لگا تب
ایک احساس تُو ساتھ ہے تو پھر کس بات کا درخواست
تیرا نام ہی کافی ہے
اندر سے لڑنے کو
تیرا نام ہی کافی ہے
ہر راہ پہ چلنے کو
مندر ہو یا دل کا کونہ تُو ہر جگہ ہے یہ میں نے جانا
جو سچ کے ساتھ کھڑا رہا تُو اسی کے ساتھ آگے بڑھانا
تُو صرف مورتی میں نہ صرف کتابوں میں
تُو تو کرم بستا ہے سچے ہر جوابوں میں
پس اتنا دینا میرے بھگبان من ساف رہے
ارادہ نیک جو صحیح ہے وہی کرسکوں چاہے مشکل ہو ہر ایک سے
تیرا نام ہی کافی ہے
ہر بوجھ کو ہلکا کرنے کو
تیرا نام ہی کافی ہے تُو بے دل کو تہرانے کو
نام ہی کافی ہے جب سانس تھم جائے
نام ہی کافی ہے جب سب چھوٹ جائے
نہ کچھ مانگو نہ کچھ سوال بس نام رہے آخری خیال
Đang Cập Nhật
Đang Cập Nhật