میرے عوس پیاجی لا علیؑ ہے محبوب سبحانی
چھوٹتی ہے تو چھوٹے دنیا عوس قدامل نہ چھوڑیں گے
اپنے گلے میں عوس کا پٹا عوس قدامل نہ چھوڑیں گے
محبوب سبحانی عوس کے در پر عمر گزاری عوس کے در کے ہم ہے بھیکاری
اس خونٹے سے خود کو باندھا عوس قدامل نہ چھوڑیں گے
محبوب سبحانی ولیوں نے دی ان کو سلامی اب دالوں نے کی ہے غلامی
اونچا رہے گا ان کا جھنڈا عوس قدامل نہ چھوڑیں گے
میرے عوس پیاجی لا
علیؑ ہے محبوب سبحانی
عوس قدامل
کیسے چھوڑے جسم و روح کا ناتا ان سے
ان سے ٹھہرا دین کا رشتہ عوس قدامل نہ چھوڑیں گے
عوس قدامل نے سبحانی اُن کے ہاتھ میں
ہاتھ دیا گیا خود کو اجاگر
بیچ دیا گیا
اب نہ کبھی چھوڑیں گے والا
عوس قدامل نہ چھوڑیں گے
عوس پاک کے چاہنے والوں ساتھ عبد کے
ملکے کہہ دو
مرتے دم تک انشاء اللہ عوس قدامل نہ چھوڑیں گے
لا علیؑ ہے محبوب سبحانی