میرا رنج و غم مٹا کر مجھے ہر خوشی عطا کی
میرا رنج و غم مٹا کر مجھے ہر خوشی عطا کی
بیر پیر کے کرم نے
میری زندگی بنا دی
مجبور جو دیکھا مجھے حالات سے زیادہ
مجبور جو دیکھا مجھے حالات سے زیادہ
مجبور جو دیکھا مجھے حالات سے زیادہ مجھ کو دیا ہے بیر نے
بوقات سے زیادہ
بیر پیر کے کرم نے میری زندگی بنا دی
ہر گام ہے سہارا مجھے ان کے نام کا
رکھتے ہیں وہ خیال صدا مجھ غلام کا
بیر پیر کے کرم نے میری زندگی بنا دی
شہرت کے آسمان پہ پہنچا دیا مجھے
سارے جہاں میں پیر نے چھمکا دیا مجھے
بیر پیر کے کرم نے میری زندگی بنا دی
عقاد کچھ نہیں تھی تو عقاد بنی ہے
تیرے کرم سے بگڑی ہوئی بات بنی ہے
بیر پیر کے کرم نے میری زندگی بنا دی
ان کی نظر جو مجھ پہ مہربان ہو گئی
دل میری حیات کی آسان ہو گئی
بیر پیر کے کرم نے میری زندگی بنا دی
احسان کسی کا بھی اٹھانے نہیں دیتے
چوکٹ پہ کسی کی کبھی
جانے نہیں دیتے
بیر پیر کے کرم نے میری زندگی بنا دی
میں کیا تھا کس مقام پہ پہنچا دیا مجھے
جھولی بھی چھوٹی پڑ گئی اتنا دیا مجھے
بیر پیر کے کرم نے میری زندگی بنا دی
میری روح میں اے مرشد تیرا جشن ہو رہا ہے
میری روح میں اے مرشد تیرا جشن ہو رہا ہے
میں نے دل کی سونی گلیاں تیرے نام سے سجا دی
میں نے پھر کسی کے آگے
نہ بڑھایا اپنا دام
میں نے پھر کسی کے آگے
نہ بڑھایا اپنا دام
تو نے اپنی ایک نظر جو میرے حال پر اٹھا دی
مجھے راس آ رہا ہے تیری
بندگی کا صدقہ
مجھے راس آ رہا ہے
تیری بندگی کا صدقہ
جہاں نقش پاک کو دیکھا وہیں بس جبھی جھکا دی
تیری بندگی کا صدقہ مجھے راس آ رہا ہے
تیری بندگی کا صدقہ مجھے راس آ رہا ہے
ہاں جی امین مجھ کو دیکھا ہے پیر نے جب
سو ہی ہوئی تھی قسمت قسمت میری جگا دی
ہے
03:40