جلے چراغ مگر ان سے روشنی نہ ہوئی
تمام عمر یہ خوشحال زندگی نہ ہوئی
کسی کے پیار میں جیتے جی مر گئی ہوں میں
اٹھائے فیض ستم ہم سے خودکشی نہ ہوئی
میں کس کے واسطے مہنڈی رچاؤں ہاتھوں پر
کیا تھا پیار جی سے تنہاں مجھے چھوڑ گیا
بھولا دیے ہے ستمگر نے اب سب ہی وعدے
کھلونا جان کے دل کو وہ میرے توڑ گیا
کیا تھا پیار جی سے تنہاں مجھے چھوڑ گیا
موسیقی
گزر گیا ہے زمانہ وہ یاد آتا ہے اسی کا چہرہ تصور میں جھل میلاتا ہے
کہاں میں جا کے تلاشوں گلی گلی اس کو
بنا کے میرا مقدر وہ خائے پھوڑ گیا
کیا تھا پیار جی سے تنہاں مجھے چھوڑ گیا
موسیقی
مجھے جس کے واسطے دنیا روٹائے بیٹھی ہوں
اسی کے آنکھوں میں سپنے سجائے بیٹھی ہوں
کسے سناوں فسانہ میں اپنی علفت کا
قرار چھین کر مجھ سے وہ موں کو موڑ گیا
کیا تھا پیار جی سے تنہاں مجھے چھوڑ گیا
وفا کے نام پہ پربان ہو گئی خوشیاں کھلی چمن میں محبت کینا میرے کلیاں
وفا کے نام پہ قربان ہو گئی خوشیاں
کھلی چمن میں محبت کینا میرے کلیاں
تمام عمر بہانے پڑے مجھے آنسو
تمام عمر بہانے پڑے مجھے آنسو
بھری بہار میں رشتہ وہ غم سے جوڑ گیا
کیا تھا پیار جی سے تنہاں مجھے چھوڑ گیا
جی سے تنہاں مجھے چھوڑ گیا
کیا تھا پیار جی
سے تمام عمر بہانے پڑے مجھے
آنسو تمام عمر بہانے پڑے
بڑھ رہی ہوں بہت فیض میں جدائی میں
اکیلا چھوڑ کے آگے وہ مجھ سے دوڑ گیا
اکیلا چھوڑ کے آگے وہ مجھ سے دوڑ گیا
کیا تھا پیار جی سے تنہاں مجھے چھوڑ گیا