مکھ پے تو لے کے چلے
عصوروں کے لئے سیم
لے کے گدا دے دے سزا ستر
یہاں بلکہ تو توجہی ہے
مکھ پے تو لے کے چلے رام ہنومان پارے عصوروں کے لئے سیم کال ہنومان
لے کے گدا دے دے سزا ستر کرے تاہمام
یہاں بلکہ تو توجہی ہے نام ہنومان
بیمانیوں کا توڑے ابیمان ہنومان
سمشیو کا ہے ردھ روطار ہنومان گار پیر اوڑے وائیوں سے بھی تیز وائی
پتھر پلبار منعبد برمان ہنومان
تجھے دیوتا بھی پوجے منوشے بھی پوجے تجھے پوجے نہیں
عشوتا بھی بدن ان کے سوجے پوجے توڑ تیری شکتی کا کچھ نہیں سوجے
گنجے تیری جہجے کار تیرے بلکہ آگے جوجے اٹھے جو بھی اپرہار ہے
سفالیوں کے لوٹے تجھے مارنے کے ڈھونے پر ملے نہ تھی کہ
ان کی آنکھوں میں بھیا ہے اور مک پر پسینے انہیں عصوروں
کے مٹ گئے قبیلے ہی سموجے بھی نہ بات کے تو مارو تی گدہ
بھی نہ اٹھائے اور اٹھا لے گدہ تا پیچھے دھاجائی فیائے
گو جو نام لے لے ایک بار تیرہ بجھ رنگی
پھیر بھوت اپنے تو اس کے پاس بھی نہ آئے
ایک چھلانگ سے جو سارا ساگہ ساتھ منڈاپ
دے اور اٹھا لے جب پورا پربت ایک ہاتھ
سے جنہیں بھیائے نہیں لگے تینوں لوک میں کسی کہا وہ دادا حنومان کے
تو نام سے کابتے تیرے آگے شکتی شالی شکتی ہین ہو گئے کئی مہارتی ششتر
مہارتی ششتر وہین ہو گئے اور جب بن کے بیٹھے تے پر
وقت سے بشال وہ تو تیرے آگے آ کے سارے اکشین ہو گئے
دے دی بالی نے چھنوٹی بھی چلائے ہی اکل سوچا کھیچا
دی شکتی سے کرو نیر بل میرے آگے کبھی ٹکا نہیں
کوئی بھی یودہ یہ سوچ بارو تیسے جا بھیڑا وہ بے اکل
پیٹ دیا بالی آگے بل سے بھی کم سے اور بانراج کرے پراندان کی گوھار
تیری مرتو لکھی ہے میرے پرموگے ہی ہاتھا ورنہ آج ہوتا تیرا انتیم سنسکار
جائے سامنے ہو بالی یا پھر سامنے راوڈن
نہیں کسی میں بھی شمتا تو جیت پائے رن
حنومان کے سامنے بھلا کون بلوان اس کی شکتی کو مانے سویم رام اور لکھن
مک پے تو لے کے چلے رام حنومان پارے اشوروں کے لیے سویم کال حنومان
لے کے گدا دیتے سزا شتر کرتا ہمام یہاں بل کا تو دو جائی ہے نام حنومان
ابیمانیوں کا توڑے ابیمان حنومان سامن شیوک کا ہے ردھ روطار حنومان
گھڑ پیر اڑے وائیوں سے بھی تیز وائی پتر پل بھر منعبد برمان حنومان
کیا جس نے بھی سامنا ہا سویم حنومان کا
وہ ٹیک گیا کھٹیا تو کھوئی دیے پراند
اس کی گدا کا پرہاڑ لاتے مرتی کو ٹھیک
کریں سہلے خود کا پڑھنا سہتا کبھی رام
افباد بول جائے شری رام اور تھام دیتا سازے
اہی راول کو وہ دھونڈ کے پاتال سے نکالے
بھلا کس میں سامت ہے اور کس میں حساس حنومان کہہ رہتے کسی رام کا بگڑے
اشور شاہ شکتی شالی شطل سینہ میں سونامی سارے سہست کا سنگارک سنگڑ موچن
آگ سے آگ ملا کے راول کے سامنے آکے دے
گئے چنونتی پوری لنکا میں آگ لگا کے
دس سری ہو تے دس دشاوے میں تیرے یاد بچے تیرے پھرن حنومان کی گدا سے
مجھے ایک بار دے دے میرے رام گرہ دیش تو
میں لے جاؤں گا سیتا کو پہنچائے بینہ ٹھیش
وہ تو آگیا نہیں ہے مجھے سوامی کی میرے نہیں تو پیٹ کے لے جاتا
ان کے چڑھنوں میں تجھے ہاں اہنکار سنگھو بیٹھا وہ لنکا بھی لنکیش
پاوند پتر کی آندی سے نہ کچھ بچا شیش اُس کی شکتی آگے کچھ نہ
اسمبھو مانو مہکال نہیں لے رکھا ہو وانر کا کوئی بیش ہے وہ
گیانیوں میں گیانی وہ بلواروں میں بلوان وہ بیروں میں مہاویر
نشکتی پر ایبیمان تیری مہیمہ کے ورنن میں رانجا بھی
یہ سب مہر تھا اب آگے وہ جو تیری واست بکتہ سے انجان
مکھ پے تو لے کے چلے عسوروں کے لیے سیم لے کے گدا دے دے
سزا شترو کرے تاہیمان یہاں بل کا تدو جائی ہے نام ہنومان
ابیمانیوں کا توڑے ایبیمان ہنومان سمشیوں کا ہے ردربتار ہنومان
گان پیر اوڑے وائیوں سے بھی تیز وائی پتر پل بھر منعبد برمان ہنومان