موسیقی
کیوں آگئے ہیں ہم یہاں
منزلیں کیوں ہوئی ہے لا پتہ
کہنا جو بھی تھا کہہ نہ پائے ہم
جان کے خود کو بھی کیسے خود سے ہوئے گم شدہ
کیوں سمجھ میں نہ آئے یہ غم
یوں تو نبھانے کے وعدے کرتے تھے ہم
موسیقی
جو بھی کرتے تھے ہم
کہوں گا اس میں دکھ جائے گا دکھ ہی تم کو
موسیقی
مل بھی نہ پا رہا سچا سکونج میں بھی مجھ کو
موسیقی
سوچوں کیسے جب خیال ہی مجھ کو ستائے
جگ سے تو بچ لیتے ہیں خود سے اب کیسے بچ پائیں
موسیقی
تنہا نہیں ہم خودوں
سے بھی نہ کہیے پائیں
رونے میں گزری راتیں جھوٹا ہس کے دن بیٹھائیں
کیوں
نہ سمجھے ہم کو دنیا یہ
من میں رہنے سے ہم دہرے
احساس سارے گم ہوئے
کیوں
کیوں
یہ زندگی ہے دہرے
یاسی
لہرے بھی آسو بہائے
چوکے خوشی ہمیں گزر جائے جائے
کیوں
نہ سمجھے ہم کو دنیا یہ
من میں رہنے سے ہم دہرے
نہ جانے ہوئے ہم کم کیوں
موسیقی