بیارا سا ایک درمار ہے
بیٹھے جہاں خاٹو سرکار ہے
برسے بابا کا جہاں پیار ہے بھکتوں کا ہوتا اتھار ہے
مورے چھڑی جو وہ گھوماتے ہیں بگڑی جو بھاگ بن جاتے ہیں
جیون روشن ہو جاتے ہیں
کرتے بھکتوں پہ اپتار ہے
سکھ دکھ کے بنتے پہرے دار ہے سپنے سب ہوتے ساکار ہے
جیون کے دھوپ میں وہ چھایا ہے جب بھی بکارو چلائیا ہے