میں کب تک سنوں گا یہ خبر
کہ جل گیا ایک اور گھر
دو بیٹے ماں کے مر گئے
ایک بیوی نے کھا لیا زہر
میں کب تک سنوں گا یہ خبر
کہ بد رہے گا سارا شہر
اس گھم میں نکلے گا جلوس ایک پہن گئی ہے اوجر
کر دیکھا نے
میچ سڑک پر ایک ماں تھی بیٹھی بیٹا
پکڑ کر
تھی اس کی آنکھیں سوجی سوجی اور دیکھ رہی تھی رو رو کر
وہاں کیا ہوں تھا
تھا سب کو پتا
تھا بکھرا ہوا لہو ہر جگہ
کہنے کو تو بس
ایک نوجوان تھا
جو بے نشان ہے وہ ماں کی جان تھا
میں کب تک سنوں گا یہ خبر لاشیں بچھی دیکھا جدھر
پھر چپن آج مر گئے
پھر ہو گیا کوئی در بدر
ہمیں جی لینے دونوں