ہر دل کے اندر قابی کا محور صدرا سے اوپر سکلین سے برکر
ایمان میں کامل ایکان کا ساحل مومن نے پکارا
تقوی کا ادارہ دریہ کا کنارہ مومن کا سہارا
قرآن کا ناطق تقدیر کا خالق مولاِ صادق اس جان کا مالک
قرآن کا پارا رضوان کا نارا احمد کا پیارا میری آنک کا تارا
احمد کا سایا قابی میں آیا
لے دے بھائی آئے پیغمبرؑ خالق کے گھر سے
نکلے باہر خوش ہو کے سرور خالق کے گھر سے
مولا علیؑ آئے میری مولا علیؑ آئے پیغمبرؑ خالق کے گھر سے
اللہ اللہ آئے علیؑ ہے قابی کے اندر شیر جلی ہے
پاک نبی نے پایا ہے ناصرؑ خالق کے گھر سے
لے دے بھائی آئے پیغمبرؑ خالق کے گھر سے
مشکل پھشا ہے حاجت روا ہے اولا امبیا کا یہ آسرا ہے
آئی صدا
اے حیدر یا حیدر
خالق کے گھر سے لے دے بھائی آئے
پیغمبرؑ خالق کے گھر سے
مریم کو بھی روک آ گیا
ہے بنتِ اسد کا کیا مرتبہ ہے
پاس بلایا
آواز دے کر
علیؑ دم دے لے بھائی آئے پیغمبرؑ خالق کے گھر سے
لے دے بھائی آئے پیغمبرؑ خالق کے گھر سے
نارا علیؑ جا پیو تو ہنی نارا علیؑ جا پیو تو ہنی
نڈو تو ہنی پیارا نڈو تو ہنی
نارا علیؑ جا پیو تو ہنی
من کرتے لانت پایوں تو کری نڈو تو ہنی پیارا نڈو تو ہنی
نارا علیؑ جا پیو تو ہنی نڈو تو ہنی پیارا نڈو تو ہنی
پاک لہو آ سب اکھے بودھائے من کر جو توں سینوں جلائے
ہر وقت کری تو توں جو علیؑ
نڈو تو ہنی پیارا نڈو تو ہنی نارا علیؑ جا پیو تو ہنی
نارا علیؑ جا پیو تو ہنی نڈو تو ہنی پیارا نڈو تو ہنی
عرمان آئی تیرا رجب ہے جشنِ علیؑ کا منظر عجب ہے
من کر علیؑ کے مرتے ہیں سن کر خالق کے گھر سے
لینے بھائی آئے پیمبرؑ خالق کے گھر سے
نکلے باہر خوش ہو کے سرور خالق کے گھر سے
لینے بھائی آئے پیمبرؑ خالق کے گھر سے