کہاں تک یہ من کو اندھیریں چھلیں گے
اداسی بھرے دن کبھی تو ڈھلیں گے
کہاں تک یہ من کو اندھیریں چھلیں گے
اداسی بھرے دن کبھی تو ڈھلیں گے
کبھی سکھ کبھی دکھ یہی زندگی ہے
یہ پتھ جھڑ کا ماسم گھڑی تو گھڑی ہے
نئے پھول کھل پھر دگر میں کھلیں گے
اداسی بھرے دن کبھی تو ڈھلیں گے
اداسی بھرے دن کبھی تو ڈھلیں گے
بھلے تیج کی تینا ہوا کا ہوتوں کا
مگر اپنے من میں تو رکھ یہ بھروسہ
پچھلے سفر میں تجھے پھر ملیں گے
اداسی بھرے دن کبھی تو ڈھلیں گے
کہے کوئی کچھ بھی مگر سچ یہی ہے
لہر پیار کی جو کہیں اٹھ رہی ہے
اسے ایک دن تو کنارے ملیں گے
اداسی بھرے دن کبھی تو ڈھلیں گے
کہاں تک یہ من کو اندھیریں چھلیں گے
اداسی بھرے دن کبھی تو ڈھلیں گے