تیری رسوائیوں سے درتا ہوں
جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں
حال دل بھی نہ کہہ سکا گرچے
تو رہی مودتوں قریب میرے
تو مجھے چھوڑ کر چلی بھی گئی
خیر قسمت میری نصیب میرے
اب میں کیوں تجھ کو یاد کرتا ہوں
جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں
کوئی پور سان حال ہو تو کہوں
کیسی آنڈھی چھلی ہے تیرے بعد دن گزارا ہے
کس طرح میں نے رات کیسے ڈھلی ہے تیرے بعد
روز جیتا ہوں روز مرتا ہوں جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں
وہ زمانہ تیری محبت کا
ایک بھولی ہوئی کہانی ہے
کس طمعنا سے تجھ کو چاہا تھا
کس محبت سے ہار مانی ہے
اپنی قسمت پہ ناز کرتا ہوں
جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں
اب میں کیوں تجھ کو یاد کرتا ہوں
جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں
روز جیتا ہوں روز مرتا ہوں
جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں