خرشید عرض سچی بارت ہے دوستو
یہ داستان عشق محبت ہے دوستو
کرشید عرض
سچی بارت ہے دوستو
یہ داستان عشق محبت ہے دوستو
یہ داستان عشق محبت ہے دوستو
یہ داستان
عشق محبت ہے دوستو
ایک
نوجوہ کا واقعہ
کرتا ہوں میں رکم
عیسیٰ نبی کے دور کا
قصہ ہے محترم
یا بھوکی ہے عال کا یہ سچا واقعہ
بعد حضرت عیسیٰ کا دور تھا
اللہ
مہربان بنی اسرائیل پر
جب قوم کا بھروسہ تھا رب جلیل پر
اس وقت اس جہان میں عالی قوم تھی
رب کی نظر میں برکر و بالا یہ قوم تھی
ہانا بھی ان کا خلد سے آتا تھا مومنوں
بر بر دگار ان کو کھلاتا تھا مومنوں
بدفعی ان میں آگئی مغرور ہو گئے
اللہ کی رحمتوں سے بہت دور ہو گئے
اس قوم کا ہی ایک حسین نوجوان تھا
اپنے حسین ہونے پہ اس کو بھومان تھا
بہتر کسی کو خود سے سمجھتا نہیں کبھی
خاتر میں یہ کسی کو بھی لاتا نہیں کبھی
ایک لڑکی اس نے دیکھی وہ اس سے حسین تھی
یہ شوخ نوجوان تھی اور مہجبین تھی
یہ دل میں اپنے سوچتا مل جائے یہ کلی
دنیا میں اس کی طرح نہیں کوئی بھی حسین
پیغام بھیجا شادی کا اس دل نشین کو
رشتہ پسند ہو گیا اس مہجبین کو
وہ لڑکی اس سے شادی کو تیار ہو گئی
خوشیوں کی اس پہ دیکھی یہ بہت چھار ہو گئی
حسرت تھی جس کو پانے کی اس کو ہے پا لیا
اس کو بھرو حسینا کو دلہن بنا لیا
بی بی ملی ہے اس کو بڑی ہونہار ہے
دل کے چمن میں آگئی اس کے بہار ہے
آنگن میں اس کے کھل گیا یہ پھول شاندار
اس پھول کا تھا باب کے مالی کو انتظار
بی بی تو اس کی حد سے زیادہ حسین تھی
لگتی تھی آسمان کی پری مہجبین تھی
رب نے تو اس کے دل کی ہے حسرت نکال دی نعمت تمام عمر کی دامن میں ڈال دی
رکھتا تھا اپنے گھر میں اسے خوب پیار سے
تھا پیار اس کو بے پناہ جانے بہار سے
یہ کیا خبر تھی رنج اٹھائے گا یہ بشر
آنکھوں سے اپنی عشق بہائے گا یہ بشر
کچھ دن کے بعد بی بی بیمار
ہو گئی
آئی خوشی تھی ٹوٹ کے مسمار ہو گئی
مشہور ایک طبیب نے اس کا کیا علاج بی بی کی موت ہو گئی پے چین تھا یہ آج
کیا ہو گیا
سمجھ میں ہے آتا نہیں اسے
کیا مرض تھا طبیب بتاتا نہیں اسے
حیرت میں نوجوان تھا کیسے یہ مر گئی
اس کی حیات ٹوٹ کے یارو بکھر گئی
لڑکے کے سر پہ ٹوٹ پڑا غم کا تھا پہاڑ
ایسے میں آشیانے کو دیتا خدا اجار
سمجھاتے بستی والے تھے کرنا نہیں ملال
لڑکے کو کھائے جاتا تھا بی بی کا انتقال
دوبا ہوا تھا صدمے میں روتا تھا زار زار
اٹھتی تھی ہونک سینے میں لڑکا تھا بے قرار
بنایا بستی والوں نے اس مہجبین کو
یہ لڑکا بھولتا نہ تھا بے حد حسین کو
آسو روا تھے آنکھ سے دل اس کا غم زدا
جو اس کا حال ٹکھتا
کہتا تھا با خدا
سو جان سے عزیز تھی بی بی بچھڑ گئی
افسوس اس جوان کی دنیا اجڑ گئی
کابو نہ کر سکا غم بی بی کے عبر پر
کابو نہ کر سکا غم بی بی کے عبر پر
روتا تھا لڑکا بیٹھ کے بی بی کی قبر پر
روتا تھا لڑکا بیٹھ کے بی بی کی قبر پر
روتا تھا
سال ہو گیا تو یہ دن اور رات کو اس کی قبر پر جا کر رویا کرتا تھا
اور
آگے کیا ہوتا ہے اگلا بند سمات رہے
اس کو غم جدائی نے توڑا ہے دوستو
فرکت نے اب کہیں کا نہ چھوڑا ہے دوستو
گھر والے اس کو دیکھ کے کہتے ہیں بار بار
خود کو تم سمھا لیے ہونا نہ بے قرار
بی بی کا غم دماغ کے اندر سما گیا
اس نوجوان شخص کو پاگل بنا گیا
خویا ہوا تھا عشق میں بی بی کے صبح شام
اب رات کو بھی قبر پر کرنے لگا قیام
میں کیسا یہ دیوانہ ہو گیا
دنیا کے ہر خیال سے بیگانہ ہو گیا
چھے ماہ تک پڑا رہا بی بی کی قبر پر
لب پر یہی کلام
تھا بی بی کی قبر پر
یارب جو مجھ پر آئی ہے مشکل کیوں ٹالتے
بی بی کو میری قبر سے زندہ نکالتے
ورنہ میں اس قبر پر دے دوں گا اپنی جان
بی بی کے بین اداس ہے میرے لیے جہاں
تو جانتا ہے آج میرا دل فگار ہے
یہ مر چکی ہے پھر بھی مجھے انتظار ہے
دے دوں گا جان آخری ہے دل کا فیصلہ
میں سر پٹک پٹک کے اسی قبر پر خدا
موزیس آمین حضرات یہ نوجوان
اس قبر پر بیٹھ کر
اللہ سے دعا کرتا ہے کہ میرے مولا
تو میری بی بی کو زندہ کر دے
ورنہ میں اسی قبر پر سر پٹک پٹک کر اپنی جان دے دوں گا
اور آگے کیا ہوتا ہے سامعین سمات کریں
کپڑے پھٹے تھے بال بکھیرے تھا نوجوان
بی بی کے غم میں قبر کو گھیرے تھا نوجوان
عیسیٰ نبی کا ہو گیا اس راہ سے گزر
دیکھا نبی نے قبر پر روتا کوئی بشر
کیوں رو رہا ہے رونے کی آخر ہے کیا بجا
دل میں خیال حضرت عیسیٰ پہ آ گیا
عیسیٰ نبی نے اس گھڑی
لڑکے سے یہ کہا
یہ حال کیوں بنا لیا مجھ کو ذرا بتا
بنا لگا یہ لڑکا بتاؤں گا میں ضرور
چھے ماہ
پہلے مر گئی بی بی میری حضور
میں
بیٹھا اس کی قبر پہ کرتا ہوں یہ دعا
دوبارہ اس کو زندگی دے دے میرے خدا
دل میرا پھٹتا درد سے کس درجہ ہوں ملول
درجہ رب میں نہ ہوتی دعا قبول
بی بی کے غم نے کر دیا اس وقت ہے نڈھال
تم کون ہو حضور میرا
پوچھتے ہو حال
بی بی بغیر دل نہیں لگتا میرا کہیں
تم جاؤ اپنی راہ لو مرنا مجھے یہیں
چھینا ہے جس نے بی بی کو اسے ہی مانگتا
ہوگی دعا قبولی
یقینن میں جانتا
موزے سامین حضرات
جس قبرستان میں اس کی بی بی گفن تھی
اور یہ نوجوان اسی قبر پر رو رہا تھا
لیکن اچانک اسی راہ سے عیسیٰ علیہ السلام کا
گزر ہوتا ہے اور جب وہ رونے کی صدا سنتے ہیں
تو اس نوجوان سے پوچھتے ہیں
تو یہ سارا واقعہ بتاتا ہے
کہ میری بی بی تھی
اور میں بہت ہی اس سے پیار کرتا تھا
اچانک اس کی موت ہو گئی
اور اسے بھروسہ تھا
کہ یہ زندہ ہو جائے گی
عیسیٰ نبی سارا واقعہ
سنتے ہیں
اور آگے کیا ہوتا ہے ملاحظہ دیں
یہ سن کے بولے حضرت مریم کے نونے حال
عیسیٰ علیہ السلام ابھی دیکھنا کمال
دیوانگی پہ مجھ کو درست آ رہا تیری
فریاد کو ضرور سنے گا خدا تیری
عیسیٰ خدا پاک سے کرنے لگے دعا
بی بی کو اس کی زندہ بھی کر میرے خدا
مشکل گھڑی تُٹال دے غم سے نڈھال کی
دے نہ
لاج حضرت
مریم کے لال کی
رحمت خدا پاک کی اب آئی جوش میں
تھی دفن لاش قبر میں اب آئی ہوش میں
لڑکے سے بولے
عیسیٰ تُو خود کو سمال لے
یہ قبر کھول قبر سے بی بی نکال لے
کھولی قبر بی بی کو باہر نکالتا
تھی زندہ بی بی مشکلِ اللہ تالتا
یہ موجزہ تھا حضرت عیسیٰ کا مومنوں
کیا آگے ہونے والا ہے یہ غور سے سنو
پیغمبروں کی رد نہیں ہوتی دعا کبھی
لوٹا دی اس کو خالقِ اکبر نے زندگی
لے جا اسے تُو گھر پہ یہ کہہ کر چلے گئے
یہ حکم دے کے عیسیٰ پیغمبر چلے گئے
سامین یہ نوجوان اپنی بی بی کے قبر پر رات اور دن رویا کرتا تھا
جب
یہ لڑکی زندہ ہو جاتی ہے تو اس کے بعد
یہ لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ کیا کرتی ہے
آگے کا بند ملاحظہ کریں
اب اور اس کے حسن کو سو چاند لگ گئے
دونوں کے اب خوشی سے تھے چہرے چمک گئے
اس قبر پہ مہینوں سے بی بی پڑا ہوں میں
نہ سو سکا تھا غم میں تیرے تھک چکا ہوں میں
آرام کر لے تھوڑا تب ہی گھر چلیں گے ہم
زندہ ہو گئی ہو خدا کا ہوا کرم
بی بی بٹھا کے پاس زمیں پر ہے سو گیا
یہ
لڑکا گہری نیند میں اس وقت کھو گیا
ایک گھڑ سوار آ گیا گھوڑے پہ بیٹھ کر
شہزادہ بادشاہ کا تھا لڑکی کو دیکھ کر
وہ رک گیا
قریب تھا لڑکی کے آن کر
یہ ڈال کا تھا لڑکی پہ
اپنی غلط نظر
کیا خوب لگ رہی ہو بلا کی حسین ہو بیٹا میں بادشاہ کا ہوں تم دل نشین ہو
تم ساتھ چلیے میرے میں جنت دکھاؤں گا
دلہن بنا کے محل کی زینت بناوں گا
سر سے لے کے پاؤں تلک حسن کی پری
زینت بنا لو محل کی ہے عارض میری
گھوڑے پہ بیٹھی حسن کی ملکہ چلی گئی
شوہر کو دیکھ راہ میں دھوکہ چلی گئی
سامین ازرات یہ دونوں میعہ بی بی
ایک جگہ بیٹھ جاتے ہیں راہ میں اور یہ اپنی بی بی سے کہتا ہے
نوجوان کہ میں تھک چکا ہوں مہینوں سے تیری پبرو پر روتا رہا ہوں
اب مجھے نیند آ رہی ہے کچھ آرام کر لیں اس کے بعد گھر
چلیں گے اس کے بعد یہ لڑکا سو جاتا ہے اور اتنے میں
ہی ایک بادشاہ کا بیٹا وہاں گھڑے پر بیٹھ کر آ جاتا ہے
اور لڑکی کا حسن و شباک دیکھ کر یہ
مچل جاتا ہے اور وہ اس لڑکی سے کہتا ہے
کہ تُو میرے ساتھ چل میں تجھے اپنی محل
کی زینت بناوں گا اور تجھے اپنی رانی
بناوں گا اور وہ بہکائے میں آ جاتی ہے
اور اس راجہ کے لڑکے کے ساتھ چلی جاتی ہے
اس کے بعد کیا ہوتا ہے
ملاحظہ میں شوہر اٹھا تو دیکھا کے بی بی نہیں ہے پاس
آنکھوں میں آسو آ گئے لڑکا ہوا اداس
روتا تھا اور کہتا تھا بی بی کہاں گئی
جنگل میں ڈھونڈتا تھا نہ اس کو وہ مل سکی
کافی پریشا ہو کے ایک آہت سنائی دی
ہو
سکتا وہ یہی ہو تسلی اسے ہوئی
پہنچا قریب قدموں کے نیچے زمین ہیلی
ایک مرد کے تھی ساتھ میں بی بی اسے ملی
یہ لڑکا بولا بی بی سے تم آئی کیوں ادھر
چھوڑائی مجھ کو سوتے ہوئے بیچ راہ پر
سنیے جبابو بی بی کا تم کون ہو بشر آئے کہاں سے تم کو نہ میں جانتی مگر
تم جاؤ کون ہو تمہیں پہچانتی نہیں شوہر تو میرا یہ ہے تمہیں جانتی نہیں
اتنا سنا تو لڑکے پہ تاری کی چھا گئی
دونوں طرف سے جھگڑ کی نوبت تھی آ گئی
آخر کہیں سے آ گئے عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی ہوئے لڑکی سے ہم کلام
تو جھوٹ بولتی ہے بڑی بے وفا ہے تو
شوہر کو اپنے چھوڑ کے کرتی دگا ہے تو
سامن ازرات یہ شہزادہ اس لڑکی سے کہتا
ہے کہ میں تمہیں اپنی رانی بناوں گا
اور یہ بہکائے میں آ جاتی ہے اور اپنے شوہر کو دھوکہ دے دیتی ہے
اتنے میں عیسیٰ علیہ السلام وہاں تشریف لے
آتے ہیں اور اس لڑکی کو بہت سمجھاتے ہیں
لیکن وہ جھوٹ بے جھوٹ بولتی ہیں
پھر عیسیٰ علیہ السلام اس لڑکی کے لیے کیا اللہ سے دعا کرتے ہیں
اور اس لڑکی کا
کیا ہوگا آخری بند سمات کریں
چھے ماہ تیری قبر پہ بیٹھا رہا تھا یہ
رب سے دعا تیرے لیے کرتا رہا تھا یہ
شہزادہ تو نے دیکھا تو
نیت بدل گئی
محلوں کا نام سن کے طبیعت مچل گئی
تو بے وفا ہے اپنوں سے کرنے لگی دغا
زندہ ہوئی تو میری دعا کا تھا یہ سلا
شوہر نے تیرے واستے دنیا کی چھوڑ دی
اور کر لی تیرے عشق میں برباد زندگی
قسمت میں تیری لکھی جہنم کی آگ ہے
ٹھکرا رہی ہے جس کو وہ تیرا سواگ ہے
مریم کلال اس کے لیے بددعا کرے
اللہ اس کو برزخی دنیا میں بھیج دے
اب بارگاہ رب میں دعا کام کر گئی لڑکی گری زمین پہ فورا ہی مر گئی
تھر آیا دل بماغ تھا یہ کام دیکھ کر
شہزادہ بھاگا لڑکی کا
انجام دیکھ کر
لڑکے کو دیکھو عیسیٰ نبی سے دعا ملی
تھی بی بی بے وفائی سے رب کی سزا ملی
خرشید دل نبی سے خدا سے لگائیے
دنیا میں چاندنی کی طرح جگمگائیے