عشق چیز نمی دان ہے
عشق سرور ہے دل جس میں چھوڑ ہے
کوئی فرق ہے یا کیف فیدور ہے
عشق یقین ہے عشق گمال ہے
کب ہے یہ پیر ہے کب محرکان ہے
عشق تو خان ہے عشق سراب ہے
کاتوں کے وچ میں میگا گلاب ہے
عشق رو رائے بھی عشق حسائے بھی
جینے کے نام پر مرنا سکھائے بھی
چی بی گو
یا
عشق چیز
چی بی گو یا
کس کو خبر ہے کسی ڈکر ہے یہ منزل ہے لا پتا
کیسا سفر ہے یہ کہتے ہیں دور سی جلوی محبوب کے
دریاں ہے آگا کا جانا ہے نوب کے عشق میں یارمز چھینا محال ہے
حاصل عشق بس رنج و ملال ہے ٹوٹی دلوں کے یوں کسی حسا رہے
پھر بھی کیوں عشق میں نبی قرار ہے
بی گو یار ہے
عشق چیز بی گو یار ہے
عشق چونوڑ ہے عشق سگونی ہے کلپوں نکاپ میں داری فسونی ہے
پرگا دریوے ہے چل پا گیریوے ہے کچھ دل شکست گی کچھ دل بریوے ہے
عشق سیاریاں دل آبساریاں پوٹی ہے رات بس وقت شماریاں
عشق پرار دے عشق سوار دے چیتی وہ عشق میں خود کو چھوھار دے