اِن حسینوں میں
پردے کی رسم باقی رہے
اِن حسینوں میں پردے کی رسم باقی رہے
بندوں کی کیا کافروں کی قسم باقی رہے
اِن حسینوں میں
پردے کی رسم باقی رہے باقی رہے
گلی کوچوں میں لڑکڑاتے قدم بڑے بدنام ہوتے ہیں
نشے میں جھومنے والوں کو میں خانے میں سلام ہوتے ہیں
کچھ اس طرح جو اپنوں کے درمیان ہی بے نکاب ہو
تو غرورِ زینتِ
آنکھوں میں شرم باقی رہے باقی رہے
چاند ستاروں کی قدر جیسے راتوں میں ہوتی ہے
ہیرے کی قدر جیسے جہوری کے ہاتھوں میں ہوتی ہے
چہرا لیے ہاتھوں میں
دیدارِ حُسن جنت کرلے
عاشقوں میں یہ
طمنا یہ نظام باقی رہے باقی رہے
عاشقوں میں یہ
طمنا یہ نظام باقی رہے باقی رہے
اے حسینوں گر حُسن کی نمائش نہ ہو تو فرمائش ہو جائے
دیدارِ حُسن کا جو حق نہ ملے
تو گزارش ہو جائے
ہو فقر ہو جائیں اس انایت پر لب سے ما شا اللہ نکلے
نظرِ سجدہ کرے اور اعترام باقی رہے باقی رہے
ان حسینوں میں پردے کی رسم باقی رہے باقی رہے
بندوں کی کیا کافروں کی قسم باقی رہے باقی رہے
ان حسینوں میں
پردے کی رسم باقی رہے باقی رہے
Đang Cập Nhật
Đang Cập Nhật
Đang Cập Nhật
03:04