اُس میں سے نہیں مطلب دل جس سے ہو ویگانا
مقصود ہے اُس میں سے
دل ہی میں جو کھچتی ہے
ہنگام ہے کیوں برپا
تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈالتا تو نہیں ڈالا
چوری تو نہیں کی ہے
ہنگام ہے کیوں برپا
تھوڑی سی جو پی لی ہے
سورج میں لگے دھبا
فطرت کے کریش میں ہے
بُت ہم کو کہیں کافر
اللہ کی مرضی ہے
ہنگام ہے کیوں برپا
تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈالتا تو نہیں ڈالا
چوری تو نہیں کی ہے
ہنگام ہے کیوں برپا
تھوڑی سی جو پی لی ہے
تھوڑی سی جو پی لی ہے