ہم بے وفا
پرگز نہ تھے
پر ہم وفا کرنا سکے
ہم کو ملی
اس کی سزا
ہم جو خطا کرنا سکے
کتنی اکیلی تھی وہ
راہ ہم جن پہ اب تک اکیلے چلتے رہے
کبھی اوہ بے خبر
تیرے ہی گم میں
جلتے رہے
تو نے کیا
جو شکوا ہم وہ گلا
کرنا سکے
ہم بے وفا
پرگز نہ تھے پر ہم وفا کرنا سکے
تم
نے جو دیکھا سنا سچ تھا مگر
اتنا تھا سچ یہ کس کو پتا
تمہیں میں نے کوئی دھوکا دیا
جانے تمہیں کوئی دھوکا ہوا
اس پیار میں
سچ جھوٹے کا تم ویسلہ کرنا سکے
ہم بے وفا
پرگز نہ تھے
پر ہم وفا کرنا سکے