کربلا نے کہا
آئیے یا علی
ہو رہی ہے جعفاء
آئیے یا علی یا علی یا علی یا علی
ہو رہی ہے جعفاء
آئیے یا علی یا علی یا علی یا علی
دل تڑپتا ہے سن کر میرا رات دن
العتش کی صدا آئیے یا علی
یا علی یا علی یا علی
شیع کے خیمے ہیں جلتے ہوئے دشت میں
لے کے تھنڈی ہوا
آئیے یا علی یا علی یا علی یا علی
بھوک پیاسا یہاں آپ کے لال پو
گھیرے ہیں عشقیاں آئیے یا علی یا علی یا علی
قتل مقتل میں اولو محمد ہوا
ہوگا زینب کا کیا آئیے یا علی یا علی یا علی یا علی
ہائے پا مال ہوتا ہے اگل بدن
دن کو پھول کے مشکل پوشا آئیے یا علی یا علی یا علی یا علی
کٹ گیا شہر
کا دوسرا ہاتھ بھی
وہ علم اب گیا
آئیے یا علی
یا علی یا علی یا علی
شہر کا خیمہ جلا
آئیے یا علی
یا علی یا علی یا علی
ہائے شبیر چلو میں ہے خولیے
کیا ستم ہو گیا
آئیے یا علی
یا علی یا علی یا علی یا علی یا علی یا علی
دل پہ چھایا وہ غم رو دیا تھا کلم
اب یہ فرد بھی لکھا آئیے یا علی یا علی یا علی یا علی یا علی یا علی
ہو رہی ہے جاپا
آئیے یا علی یا علی یا علی یا علی یا علی یا علی یا علی
یا علی
Đang Cập Nhật
Đang Cập Nhật
Đang Cập Nhật