میرے آقا میرے داتا میرے آقا میرے آقا
کرم فرمائے
ہو کرم سرکار اب تو ہو گئے غم بے شمار
ہو کرم سرکار اب تو ہو گئے غم بے شمار
جانو دے تم پر فدا اے دو جہاں کے تاجدار
یا رسول اللہ اب تو ہو گئے غم بے شمار ہو
سرکار اب تو ہو گئے غم بے شمار
میں
اکیلا اور
مسائل
زندگی کے
بے شمار
آپ ہی کچھ کیجیے نا اے شہی علی وقار
ہو کرم سرکار اب تو ہو گئے غم بے شمار
سبز
گنبد تو
دکھا حاضری کے عارضوں نے کردیا پھر بے قرار
یا رسول اللہ اب تو ہو گئے غم بے شمار
حال پر میرے کرم کی اک نظر فرمائے
دل میرا غمغین ہے اے غمزدوں کے غم غسار
ہو کرم سرکار اب تو ہو
گئے غم بے شمار
میرے اکرم کرم سرکار اب تو ہو گئے غم بے شمار
یا رسول اللہ
سن لیجے میری فریاد کو
کون ہے جو کہ
سنے تیرے سیوا میری بغا
یا رسول اللہ اب تو ہو گئے غم بے شمار
سرکار
اب تو ہو گئے غم
بے شمار
کافل والوں سنو یاد آئے تو میرا سلام
عرض کرنا روتے روتے ہو
سکے تو بار بار
میرے اکرم کرم سرکار اب تو ہو
گئے غم بے شمار
غم بے
خزرا کے جلوے اور وہ افتاریاں
سیاد آتے ہیں بہت رمضان فیوا کے بہار
یا رسول اللہ اب تو ہو گئے غم بے شمار
غم صدا یوں نہ ہوا ہوتا
ابد قادری
اس ورس بھی دیکھتا گر سبز غمبد کی بہار
میرے اکرم کرم سرکار اب تو ہو
گئے غم
بے شمار
میرے اکرم کرم سرکار اب تو ہو گئے غم بے شمار
Đang Cập Nhật
Đang Cập Nhật
Đang Cập Nhật