مرشد مرشد مانے میرے پاس
نہیں فرصت
مرشد مرشد مانے میرے پاس
نہیں فرصت
مرشد مرشد مانے میرے پاس
نہیں فرصت
کریئر ہیں ان کے سارے
پکچڑ مجھ پر
منظر عام پہلانے لگا
سچ میری نقل میں بن دریا نے
میرے پاس میرے لاؤس میرا فلو
میرے پرو میرے کُتے فلو میرے آگے شانے
چکو چکو میرے اینے لگ گئے پھر
پھر چلوں گی یہ گنجھر خانے
اندر ہی اندر لگے یہ چھمانے
مجھے اب ابھی یہ مورش اندر مانے
ہو جا تھوڑا شینٹی بینٹی کینٹی چھوڑ
پیکے تجھے ہینکی پینکی مہنگی اور
بیبی تیری چونتی چوبی پینٹی او
ہو کے ساری سینٹی پھینکے پینٹی لو
اے میرا میرے خود پینی بس بس بس
لو جی لے لو ریپ والی جس جس جس
باتیں ساری بڑی سیدھی ولگر چیگ
ریپ میرا چڑھے جیسے پرپل میٹھ
ایک باری پیرے بولے پترے تم کون ہے
مجھے بعد میں یاد میں کروا دوں اوقات
تیرے ایسے کر ویسے کر یہ کر وہ کر
تھنڈ میں میری ذات بھنڈ نہ مارے
کہ مجھے بڑے فرق تو چھوڑ دے دیکھنا خواب
مجھے کر اے میرا فلو تو نہ چھاپ
ام لو کو او نو دیڈن
بیچز آ پین ریپز آ سن
او پا ون نو ون ام روم
یہ میرا باگل بند
سندس نہ بول مجھے پیو
آئینج یا ہومی آئینج یا پرو
ٹیلر ٹیلر اینا دائن فلو
آئینگا لو ونی ہاؤس گیل
گاڈ ڈیم میرے فین
میرے سے زیادہ کوئی رامی میری چھوڑ
تو میرے تک پہنچے گا انہوں نے چھوڑا تو جانی
گاڈ ڈیم میرے پروز
میرے سے دھوگنے باگل
گاڈ ڈیم میری ہول ڈین
یہ روک تاکہ ماروں اول ہے
بیک ہو سین پورا چھوکا ہویا
اول ہے
پیس لین گلا سکا ہویا
اول ہے
میرے ٹیم پوری سائکلون
اول ہے
چھوکی کنٹے روا خائز آن
چھڑ گئی ہے منو بوتی میری جین
اسلام آبادے
ہویا کھلی تنگ
گوجی میرا گینگ
میری گینگ
اے نہ دے میں دلانچوکی کا ڈام
مرشد مرشد
مانے میرے پاس نہیں فرصت
مرشد مرشد
مانے میرے پاس نہیں فرصت
مرشد مرشد
مانے میرے پاس نہیں فرصت
کرئیر ہے ان کے سارے
پیچڑ مجھ پر
ہی
ہی
ہی
چھوٹے بول تیرا دھرم کیا تیرے شہر میں ریپ سینگ گرم کیا
میں نے شہرِ کراچی میں مچایا کہر جو سمجھنے والا تھا سمجھ گیا
میرے جیسا تجھے ملے گا نہیں فریز اپنی جگہ سے کوئی ہیلے گا نہیں
تو چلے گا نہیں زیادہ نکھ لے اب لکھ لے خود بھی کچھ لکھ لے
یم لے پگلے ریپ کرنے نکھ لے چھک لے
آجا تھوڑی کتی چھک لے مغز ماری چھوڑ بیٹا میں روانہ کیک لے
مغز ماری چھوڑ بیٹا کاما کنزی سن لے
کلائی کافیاں تم آتے جھن میں سن بے
تیرے جیسے بہت ہے کہ دمبے چمبے
ہر بار ہوگی میری چمبے چل بے
فرق ہے مجھ میں اور تم میں
ریپ کرتے ہوئے تمہیں ہوئے تو جم میں
دو ہزار نو بیٹا کہا تھے شروع میں
نظر نہیں آئے
نظر نہیں آئے
سمجھ نہیں آتی تجھے
تب ہی تو میں رکھ رکھے کر رہا
ممبل ریپ اس ڈیڈ
برو مجھے فیلنگ آ رہی ہے
میں مردوں سے لڑڑا
اپنی راہ چل رہا
فائر بارز میرے کاغذے چل رہا
اور کلم پہ گل رہا
تلہا میں تلہا
یہ میری کلہ
کافی طویل ہے میرا سلسلہ
مائنڈ نہ کر میری تو تلات
برو پچپن سے سن رہا
ٹوپاک کو
اٹھایا تو پر پھیلایا نہیں ہاتھ کو
شوٹ تھا میرا گھر آیا نہیں رات کو
مرد مجاہد فوجی میں فوجی
سڑکیں گواہ ہیں کہ او جی میں او جی
لو جی جو بھی اکڑے تھے سارے وڑ گئے
آدھے رہے پر سیمیں ہوئے کافی زیادہ ڈر گئے
جھوکنے کے سر گئے
چر سے رگل رہے ہیں
سگرٹیں بھر رہے ہیں
چھوڑو تلہ بھائی گلے مردے او کھڑ رہے ہیں
آپ جو باتیں کر گئے ہیں
آپ جو باتیں کر رہے ہیں
آپ بتاتے ہیں اصلیت
وہ کہتے ہیں کہ آپ جل رہے ہیں
لیتے نہیں نصیت
وہ مشوروں پر چل رہے ہیں خبری
یہ پھٹتی ہے نہیں کی یہ گھبری ہے
سمجھ رہے ہیں نا برو
بنتے گھوٹ لگیں بکری