بھولے بیرا ست نے آج توڑ دیئے منہ
نہ کرے ہوئے وعدے کدھے لانگھا کرو تھا
بھولے آج تو میں اس نے بھی بھولنا چاہوں سو
جنہیں بار بار تیرے پہ میں مانگیا کرو تھا
او کیا
دامنہ روک ہے منہ نے جیون بیٹھانا جنہیں
میرے تبھی اچھا لگیا او پراٹھی کھانا
منہ نے دگے بھری عادتاں تے باج نہیں آنا
منہ نے کر دی آجاد بھولے چاہوے تھی واجانا
آج کرنی منہ تو فکر چھوڑ دی کدھے پیارے علے بند نہ تے باندھا کرو تھا
بھولے آج تو میں اس نے بھی بھولنا چاہوں سو
جنہیں بار بار تیرے پہ میں مانگیا کرو تھا
دکھ گل
یاری کا نیوانا بھی کہ ہو سائے ان مورخاں کا پتہ سمجھانا بھی کہ ہو سائے
جھڑے بھورا بھی نہ گیان پیار پانا بھی تو ہو
سائے اوڑے ڈھولے گامے علے پچھتانا بھی کہ ہو سائے
پر دیپ تند گن کے رکھے گا سنجھو کہ تو
کہ میں نے علے منجرانے مانجا کرو تھا
بھولے آج تو میں اس نے بھی بھولنا چاہوں سو
جنہیں بار بار تیرے پہ میں مانگیا کرو تھا
بھولے آج تو میں اس نے بھی بھولنا چاہوں سو
جنہیں بار بار تیرے پہ میں مانگیا کرو تھا
بھولے آج تو میں اس نے بھی بھولنا چاہوں سو
جنہیں بار بار تیرے پہ میں مانگیا کرو تھا