میں
کھول چکا سم میرا
میں بھول چکا یہ چہرہ
سنوں کیسے میں گہروں گی
میں ہو چکا اب بیرہ
میرے لیے نہیں وقت ٹھہرا
تبھی کسی کے لیے نہ رکو کسی کے لیے نہ جھوکو
پرواہ نہیں کسی کے میں خود میں ہی اب کچھوں
تر میرا ختم ہو چکا اب موت پوچھوں
خود ہی پہلی ہوں خود کو ہی روز پوچھوں
منٹلی ختم میری لائف ایسا لگے اڈرا
اونہ ہائٹ ملی مار پیٹا اٹھرا میں سائک پان سال میں نے گیسی
مجھے چاہیے نہیں گائیڈ ایک سی ای او
جب بیٹی ہو مجھے بولے ہو گالا نہیں ڈالنا بھائی
جب بھی بیٹی ہو
یہ فٹوریا گرور جس میں میں فساؤں کچھ سے دور نہ مشہور
یہ کیسا ہو گیا ہوں
یہ فٹوریا گرور جس میں میں فساؤں کچھ سے دور نہ مشہور
یہ کیسا ہو گیا ہوں
بری محفل میں سر کاٹ دینا
ہے رہا اگر چھوٹا میرا تھڑ کات دینا
پاسا میں کیسے جانا تو میں جانے نہ کوئی تبھی جاگا میرا
تمہیں لوگ مجھے پسن چو کرتے ہیں
تو میں ان کو تو پوچھنا کیسے میں کاٹوں میں
گلتی ہے گلم تو لکھتا ہوں زندگی نکلتی مرم وانی لوتی
تیل لگی گنجر ہے تیل پے اور پیٹ لگی وہ چوری کرتا نہیں
ٹرس لڈکا یا وہ کوڑی مر جاتا کل تو چیتا نہیں
آج یہ ساسو بھے تیرا ہر وقت کا راست کر کے دکھانا اور لینا ہے تاچ ہے
دکھا اندرہ پر ڈرنا نہیں آج میں رب جاتا آج تو ہوتا یہاں پے میں دب جاتا
اوز دن تو ہوتا کہاں پے گھر والے کھت کا ہی
مجھے کروا تھے تو آج میں ہوتا نہیں شاید یہاں پے