بیٹا ابو طالب کہے بیٹی رسول کی
بیٹا ابو طالب کہے بیٹی رسول کی
دیکھو علیؑ سے ہو گئی شادی بطول کی
بیٹا ابو طالب کہے بیٹی رسول کی
دیکھو علیؑ سے ہو گئی شادی بطول کی
تاریخی واقعہ ہے لکھا مستند صدیؑ
ہے فاطمہ کی دیکھ لو پاکی زندگی
بیٹی رسول پاک کی ہے نام فاطمہ
ہے مہم خدیجہ جن کے تو شہر ہے مصطفیٰ
نبیوں کے تاج دار ہے محبوب کی بوریہ
چننت کی عورتوں کی ہے سردار فاطمہ پاکی زندگی تھی باکمال کی
جب ہو گئی ہے دیکھ لو اٹھار سال کی تشریف گھر میں لائے
جو اک بار مصطفیٰ بیٹی کو اپنے سامنے بیٹھا کے یہ کہا
میں چاہتا ہوں بیٹی تیری شادی رچاؤں
کیا تیری رضا اسم ہے تو آگے بتاؤں
شہر جو تیرا ہوگا قبیلوں میں ہے آلا
سارے عرب میں سانی نہیں جن کا مل سکا
ایسا حسین ایسا بہادر وہ جواں ہے
کرتا ہے جس پہ رشت دیکھو سارا جہاں ہے
بیٹا ابو طالب کا لقب جس کا بوت راب
ہے نام علی اس کا زمانے میں لا جواب
بیٹی تیری مرضی ہو بات آگے بڑھاؤں
بیٹی تیری مرضی ہو بات آگے بڑھاؤں
بیٹی تیری مرضی ہو بات
آگے بڑھاؤں
اے فاتمہ شوہر تیرا حیدرؑ کو بناؤں
اے فاطمہ شوہر تیرا حیدر کو بناؤں
اے
فاطمہ شوہر تیرا حیدر کو بناؤں
یہ سن کے فاطمہ نے کہا
پیارے ابو جان
تم سے بڑھ کے کون زمانے میں مہربان
نہ دل میں ہے ملال نہ رنجور ہے مجھے
جو فیصلہ ہے آپ کا منظور ہے مجھے
یہ سن کے مصطفیٰ نے کہا بیٹی فاطمہ
اور شہ وریت شادی سے راضی ہوا خدا
ایک بات تجھ کو بیٹی بتاتا ہوں راز کی
اس ذات تی موجود اسی بے نیاز کی
ناگرد شیطی دیکھ لو یہ دن کی رات کی
رب نے رکھی بنیاد نہ تھی قائنات کی
رب نے تو پہلے نور سے مجھ کو بنایا
پھر میرے نور سے پنجتن کو بنایا
میرے ہی نور سے بنی بیٹی تو فاطمہ
اس نور سے حسین حسن اور مرتضی یہ دھرت آسمان ستارے چمن کے ہیں
روزہ ازن سے نور سب میں پنجتن کے ہیں روزہ ازن سے ہو گیا تھا فیصلہ یہی
بیٹی بنو گی تم میری شوہر بنے آئی یہ فیصلہ خدا کا تمرزی میں تمہاری
یہ
فیصلہ خدا کا
تمرزی میں تمہاری
کر لے اگر قبول ہو شادی بطول کی
حکم نبی کا گھر میں بلا
لائے علی کو
خوش خبر یہ سنانا ہے اب پیار نبی کو
اتنے میں علی آگئے بولے یا مصطفیٰ میں چاہتا ہوں فاطمہ کا تم سے ہو نکاح
بولے علی میں راضی ہوں جو حکم آپ کا میں کیسے ٹال سکتا ہوں فرمان
کہا نہ سو نہ چاندی پاس میں کوئی گوھر
نہیں لیکن نکاح کے واسطے کچھ مال و ذر نہیں
فرمایا ذر بختر جو پاس آپ کے
تم اس کو جا کے بیچ دو سامان کے لیے
ذر علی رستے سے گزر جاتے ہیں علی اس ماغنی نے پوچھا کہا جاتے ہو علی
مولا علی نے ان سے سارا ماجرا کہا
شادی جو ہونے والی ہے وہ واقعہ کہا
اس ماغنی نے یہ کہا یہ ذر بیچ دو
درہن دیے ہیں چاسو عسی کا ہاتھ لو
اور ذر جو
خریدتا
واپس وہ کر دیا
اور ذر جو خریدتا واپس وہ کر دیا
اور ذر جو خریدتا واپس وہ کر دیا
میری طرف سے تحفہ ہے شادی میں آپ کا
میری طرف سے تحفہ ہے شادی میں آپ کا
بیٹا ابو طالب کا ہے دولہ بنا ہوا
اس ماغنی سب نے یہ کہا
سب آگئے ہیں مسجد نبوی میں صحابہ
جگریل امی آگئے ہو رو ملک سبھی
خوشیاں منا رہے ہیں زمیں اور فلک سبھی
خطبہ نکاح کا خود ہی پڑھایا رسول نے
ذر حمصوہ سمہر دیا خود رسول نے
اس شادی سے پروردگار ہے
جنت سے جوڑے آئے خوشی کی بہار ہیں
یہ شادی علیؑ فاطمہؑ کی بے نسال ہے
اس میں فضول خرچا نہ باجا دھمال ہے
ہوتی ہے
بڑی سادگی سے شادی علیؑ کی
رخصت ہوئی ہے سادگی سے بیٹی نبیؑ کی
دھماشا ہے نہ تو دھوم دھام ہے
نہ ناچ گان اور نہ کوئی برا
کام ہے
یہ دہج تھا ایک مشک تھی ایک چمرے کا وستر
لکڑی کا پیالہ ایک تکیا اور ایک چادر
ایک ہار ہاتھ دات کا پتھر کی چکی تھی
ایک ہار ہاتھ دات کا پتھر کی چکی تھی
ایک ہار ہاتھ دات کا پتھر کی چکی تھی
سرکار دو عالم کی چہتی وہ بیٹی تھی
بھوکا تونے جنت وہ پیمبر کی بیٹی تھی
شرم و حیاء زیور تھا حیدر کی بیوی تھی
سرکار اگر چاہتے تو کیا نہیں ہوتا
سونے کے زیورات سے لڈ جاتی فاطمہ
بھوکر میں جن کے دونوں جہاں کا خزانہ
تھا وہ چاہت جنت کو اتر کے بھی آنا تھا
جنت کے جوڑے جن کے لیے آئے زمین پر
کرتے ہیں رشک و ہور و ملک پردہ نشی پر
دنیا میں ایک مثال ہے امت کے واسطے وہ فاطمہ مثال ہے عورت کے واسطے
ہاتھوں میں چھال پر گئے جب آنٹا پیستی
سانی نہیں ہے فاطمہ کا ایسی وہ ہستی
اس شادی کو مثال مسلمان بناو پیسے نہ اپنے رسم و رواجوں میں اُراؤ
سولت ہے اگر فاس کو اس پر نہ ناز کر
دنیا میں غریبوں کے لُٹاؤ یہ مال و ذر
شادی کرو تو چھوٹے نہ سنت رسول کی
شادی کو کرو یاد علی اور بدول کی
تاریخ کی بات سننا ذرا آپ دھیان سے
تاریخ کی بات سننا ذرا آپ دھیان سے
تاریخ کی بات سننا ذرا آپ دھیان سے
زندہ کرو شادی میں بھی سنت کو شان سے
زندہ کرو شادی میں بھی سنت کو شان سے
Đang Cập Nhật
Đang Cập Nhật
Đang Cập Nhật