Nhạc sĩ: Kumar Satyamm
Lời đăng bởi: 86_15635588878_1671185229650
جانے خودگرز کیوں ہو گئے ہم
جانے گمراہ کیوں ہو گئے ہم
جانے احساس کیوں مٹ گیا ہے
جانے کیوں ہم ستاتے گئے
فاصلے ہم بڑھاتے گئے
اپنے میٹے بناتے گئے
زندگی کی سحانی گھڑی ہم
نفتوں سے سجاتے گئے
فاصلے ہم بڑھاتے گئے
اپنے میٹے بناتے گئے
جس ماں باپ کی انگلی پکڑ کر ہم چلے تھے اور ان کے لئے ہم نے کیا کیا
جن کی انگلی پکڑ کر چلے ہم جن کے آچس میں سکھتے پلے ہم
کانپ نے جب لگے ہاتھ اُن پے ہاتھ اپنی چھڑاتے گئے
ہاتھ اُن پے ہاتھ اپنے چھڑاتے گئے
جن سے یہ پرانا جیون ہمارا
جن سے پچھ پن یہ یوم ہمارا
جن سے یہ ہمارا استت تو ہے جن سے ہماری زندگی ہے
جن سے یہ پرانا جیون ہمارا
جن سے پچھ پن یہ یوم ہمارا
جن سے یہ پرانا جیون ہمارا
جن سے پچھ پن یہ یوم ہمارا
جن کی ساثوں سے میری احساسیں
اُن کے آنکھیں بھگوتے گئے
آخری آخت تب سے خوبصورت شعر
تھوڑی خوشیاں بھی ہم دے سکے نہ
کسی نے صحیح کہا ہے
ایک باپ اپنی چار چار اولادیں پاند لیتا ہے لیکن چار
اولادیں ملے پھر اپنے ایک باپ کو نہیں پاند لیتا ہے
تو کہنا ہے کہ تھوڑی بھی خوشیاں اُنہیں ہم دے سکے نہ
تھوڑی خوشیاں بھی ہم دے سکے نہ
اُن کا احساس بھی رکھ سکے نہ
تھوڑی خوشیاں بھی ہم دے سکے نہ
اُن کا احساس بھی رکھ سکے نہ
توٹا چشمہ تو اُن کا نہ بدلے
صرف باتیں بناتے گئے
باتیں ہم بڑھاتے گئے
اپنی میدی بناتے گئے