Nhạc sĩ: Zeeshan Rokhri | Lời: Zeeshan Rokhri
Lời đăng bởi: 86_15635588878_1671185229650
مالک عبرار صاحب
مالک عبرار صاحب کی فرمیش ملک اصحاب ملک فاس صاحب
بھائیوں کی فرمیش سے بڑی ایک خوبصورت دوست
تو اس زمانے کو کیا ہو گیا
جس کو چاہا وہی بے وفا ہو گیا
تو بھائیوں کے لئے ایک بڑا خوبصورت صاحب
اُس کے بعد ملکہ نالہ یاری
اگر آپ کی فرمیش ہو تو آپ ضرور بتا سکتے ہیں
جی
مدسر بھائی تو لائن
واہ چاچا مانی واہ
ہمارے بہتی بیارے عارف بھائی آپ جی ہیں
ہاں وہ ویٹر عارف بھائی عارف بھائی سٹینڈ اپ ہو جائے
جی جی عارف بھائی اور بھائی سنا علیہ السلام صاحب ان کو ویلکم کہتے ہیں
عبرار بھائی ایک بڑی خوبصورت قرضل آپ دوستوں کی نظر
کہتے ہیں کہ اپنی باتوں میں میرے نام کے حوالے رکھنا
اپنی باتوں میں میرے نام کے حوالے رکھنا
مجھ سے دور ہو تو خود کو سبھالے رکھنا
مجھ سے دور ہو تو خود کو سبھالے رکھنا
لوگ پوچھیں گے پریشان ہو کیوں تم
لوگ پوچھیں گے کیوں پریشان ہو تم کچھ نگاہوں سے کہنا زبان پہ تعلے رکھنا
کچھ آنکھوں سے کہنا زبان پہ تعلے رکھنا
نہ کھونے دینا میرے بیتے لمحوں کو
نہ کھونے دینا میرے بیتے لمحوں کو میری
یادوں کو بڑے پیار سے سبھالے رکھنا
تم لوٹ آؤ گے اتنا یقین ہے مجھ کو
لنگر صائین تم لوٹ آؤ گے اتنا یقین ہے مجھ کو
میرے لئے کچھ وقت نکالے رکھنا دل نے بڑی شدت سے
ہچاہا ہے تمہیں میرے لئے وہی اپنے انداز پرانے رکھنا
تو دوستو بڑی خوبصورت گزل آپ دوستوں کے
نام کی تو ایک بڑا پیارا سا شیر چاچا مانی
آپ اپنے دوستوں کی نظر کریں گے انشاء اللہ انجوائے کریں
چاچا مانی جی خیالات کا ہزار
شیر نوینا قطرہ و چکار
شیر رو دے نظر کرینا
تیری شورت
تیری شورت
ہائے ہائے ہائے تیری شورت نگاہوں پھرتی رہے
تیری شورت میری آنکھ کا سرمایہ ہے
بسم اللہ بسم اللہ بسم اللہ
تیری شورت میری آنکھ کا سرمایہ ہے
تیرے چیرے سے نگاہوں کو ہٹھاؤں کیسے
بسم اللہ چاچا مانی جیے جیے
تیرے چیرے سے نگاہوں کو ہٹھاؤں کیسے
کہتے نہ جانے کب سے ہوا یہ دل کا حال
نہ جانے کب سے ہوا یہ دل کا حال
ایک چاند سچی رہا مجھے سونے نہیں دیتا
تو دوستوں کے لیے ایک بڑی خوبصورت گزل
دوستو اس زمانے کو کیا ہو گیا
جس کو چاہا وہی بے وفا ہو گیا
چاچا مانی زندہ بات
مالک آپ کی عمر دراصل کریں
بڑے ایک پیارے صفحانکار
ہمارا درمیان موجود ہیں تو ملک فاط صاحب ملک عبرار صاحب
ملک اصام
ملک اشد تمام دوستوں کے لیے دوستو اس زمانے کو کیا ہو گیا
جی ہے
چیکیو ای موسیقیو
دوستو اس زمانے کو کیا ہو گیا
دوستو اس زمانے کو کیا ہو گیا
جس کو چاہا وہی بے وفا ہو گیا
دوستو اس زمانے کو کیا ہو گیا
ایسا کیا ہو گیا
تو جدہ ہو گیا
بے وفا ہو گیا تو گفا ہو گیا
بے جدہ ہو گیا تو جدہ ہو گیا بے جدہ ہو گیا بے وفا ہو گیا
آپ نے ہی بنائی یہ حالت میری
آپ ہی پوچھتے ہو کے کیا ہو گیا
دوستو اس زمانے کو کیا ہو گیا
جس کو چاہا وہی بے وفا ہو گیا
دوست کیا خوب وفاؤں کا صلاہ دیتے ہیں
ہر نئے مور پہ ایک زخم نیا دیتے ہیں
تم سے تو خیر گھڑی بھر کی ملاقات رہی
دوگ سدھیوں کی رفاقت کو بھلا دیتے ہیں
آپ غیر روز نظر
ملاتے رہے
ایک نظر تم نے دے تھا تو کیا ہو گیا
دوست اس زمانے کو کیا ہو گیا
شاچا مانے
کروگے کروگے اللہ سے رو رو
فریاد کروگے کروگے کروگے
بے بچھڑا مجھ سے یار ملا
یار ملا مجھ پیار ملا
مجھے واسب تیرے یار کا
مجھے پیار ملا مجھے پیار ملا
آدمی کوئی پاس
تر کی مورت نہیں
آدمی
آدمی کا خدا ہو گیا
آدمی آدمی کا خدا ہو گیا
دوست اس زمانے کو کیا
Đang Cập Nhật
Đang Cập Nhật