اُرغتر یہ راستے یہ راستے لہو سے ہیں بھرے
اپنے سر پہ بانک فن وطن کی پکار پہ کھڑے
اُرغتر یہ راستے یہ راستے لہو سے ہیں بھرے
اپنے سر پہ بانک فن وطن کی پکار پہ کھڑے
گیٹے ہیں وطن کے یہ تلوار کی جو دھار پہ پلے
سفے دشمنوں کو پھر سے چیرتے یہ شہرہ چلے
قسم ہے حلال کی بھلے جو موت پی گلے لگے
جان حدران سارے ملک کا پاہ ہے پھر بڑے
دشمنہ دشمنہ تو یہ سن
دشمنہ دشمنہ تو یہ سن
یہ خون کیا ہے رنگ ہے اُٹھے گی تیری آنکھ بھی تو جنگ ہے تو جنگ ہے
سادھ بھی کرے گا جو میری تو اس زمین پہ
قسم ہے رب بفاق کی زمین تجھ بے دنگ ہے
آتش بری نگاہ میری سینوں میرا بفاق ہے
وہی جو سرخ روح کرے میرا آج اس تو خاک ہے
شانے بے شمار ہو میں بے شمار وار دوں جو
بھی ہو سکے میں ہستے عشق میں نصار دوں
چلے ہیں پار کے یہ جہاں تو کیا ہوا چلے جہاں ہم گئے
فخر ہے ہاں فخر ہے جو راہ ہم پہ پیدا ہوئے
چلو چلے جہاں پہ پرشتے کھڑے راہ دیکھتے