دل کے دھاگے سُلکتے ہیں راتوں میں
چھپکے سے آنسوں گرتے ہیں باتوں میں
ہوا سے باتیں کرے پر کوئی نہ سنے
دل کے کونے میں درد کا راک بنے
دل توٹا ہے لیکن دھرکتا ہے پھر بھی چھپکے روتا ہے
سپنہ سجاتا ہے پھر بھی لہروں سب اچھے سپنوں کا سانگ رہے
دل کے دھاگے
پھر سے جھرنے لگے
چاندنی کے پیچھے دھوندے ہم صویرہ
درد کے رنگ میں دیکھے نیا اندیرا سورج کے ساتھ چلے پپرچھا ہی ہے ساتھ
دل کے شہر میں ہے ایک انجان رات دل توٹا
ہے
لیکن دھرکتا ہے پھر بھی چھپکے روتا ہے
سپنہ سجاتا ہے پھر بھی لہروں سب اچھے
سپنوں کا سانگ رہے دل کے دھاگے پھر سے جھرنے لگے
لہرے پکارے
ہم سے پوچھے کیوں
دل کا سمندر
کب تک رہے گا یوں
تفاں میں بھی
ایک لاشا چھپی ہے
دل کے دھاگے
امید سے لپتی ہے
دل توٹا ہے
لیکن دھرکتا ہے پھر بھی
سپنہ سجاتا ہے پھر بھی لہروں سب اچھے سپنوں کا سانگ رہے دل کے دھاگے
پھر سے جھرنے لگے