ڈھونڈتا ہوں
شہاتوں کو میں
راہ گزرتی
راتوں میں میں
ڈھونڈتا ہی رہا میں
ہر گلی چاہتے
چاہتے جو کبھی نا ملی نا ملی نا ملی نا ملی نا ملی
ڈھونڈتا ہوں
شہاتوں کو میں
سوچنا تھا یہ دن آئے گا آوی گیا تو پھر چلا چاہے گا
ناسے میری
تھمتی رہی
باتیں تیری ہوتی رہی
زندگی میری
چلتی رہی
ڈھونڈتا ہوں
شہاتوں کو میں
جان بھی دو تم میرے ہوتوں کو
پھروں گا
ناگر چاہے تم روکو تو
آنکھیں تیری
نمتی رہی
بوندے جیسے جمتی رہی
زندگی میری
چلتی رہی
ڈھونڈتا ہوں
شہاتوں کو میں