Nhạc sĩ: sami amiri
Lời đăng bởi: 86_15635588878_1671185229650
آتی کیوں نہیں آتی کیوں نہیں
باتیں ہیں جو دل میں بتاتی کیوں نہیں
تیرے بینا جینے کی عادت تھی نہیں
تو آتی کیوں نہیں آتی کیوں نہیں
دیکھو جانا آج پھر تو مائنی
دیکھو جانا ساکھی مجھ سے تنگ ہیں
دیکھو جانا تنہائی کھائے گی
دیکھو جانا میں کدھی بھی بند ہیں
دیکھو جانا واسطے بھی کم ہیں آسرے بھی کم ہیں راتوں میں رو رہے ہم
دیکھو جانا آنکھیں بھی نم ہیں ماتے پہ شکن ہے کھانستے رہے ہیں ہم
دیکھو جانا فاصلے انگنت ہاتھ سے ہر طرف راستے پہ کھو گئے ہم
دیکھو جانا آگ سی لگے ہاتھ یہ جلے رات نہ کٹے باتیں انکہیں دل میں رہیں
آتی کیوں نہیں آتی کیوں نہیں باتیں ہیں جو دل میں بتاتی کیوں نہیں
تیرے بینہ جینے کی عادت ہی نہیں تو آتی کیوں نہیں آتی کیوں نہیں
بند رکھوں خود کو میں کمروں میں گزروں نہ
تیری گلیوں سے کچھ نہ رہے تیری نظروں میں
تیرے ہی کرزوں میں میدی نہیں ہے بکدروں سے
تو رش کے کمر پر بے داغ نہیں کتنی راتیں ایسی جو تُو ساتھ نہیں
کتنی باتیں ایسی ہیں جو یاد نہیں
تو یاد نہیں اب حفظ چکی ساتھوں کے بھی دکھتی نہیں
رات ہو گئی پر تمہاں ہی نہیں بس میں اور میری پرچاہی
کیسے نہ لکھوں یہ شاعری بس میں اور میری لکھاہی
شکایتیں کیسی ہیں جو کہیں بھی نہیں
گانے میرے جانا تم سنتی کیوں نہیں
گھڑی انتظار کی گزرتی نہیں کرتے انتظار تم آتی کیوں نہیں آتی کیوں نہیں
آتی کیوں نہیں آتی کیوں نہیں باتیں ہیں جو دل میں بتاتی کیوں نہیں