سکیت
چھوٹے تو چڑھنا کھاں میں کھاں بھڑھنا
اتنا ہم بعد میں سیکھے پہلاں سکھا گرنا
سمجھ سب گنن بجھ اب ہم ناڑی سے لیں گے
انسٹا کی ریل اب پہاڑی سے لیں گے
بہت کیا سکھا سالا روڈویج میں بیٹھ کر
اب نیپال کا ٹور اپنی گاڑی سے لیں گے
نصا بسکی سے نہیں دیسی تاڑی سے لیں گے
ساری کوٹن کی بنگال کی کھاڑی سے لیں گے
وائیکنگز بن کر خجانے کو لوٹیں گے اپمان کا پدلا کولہاڑی سے لیں گے
دوستی یاری میں کوئی جات پات نہیں ہے
اس لفدے میں میرا کوئی ہاتھ بات نہیں ہے
چوری چکتاری کوئی چھیڑی عولہ ناری اس
معاملے میں رانا تیرے بالکل ساتھ نہیں ہے
گرم ریت ننگے پاؤں چلتے دو پیر میں
سائیڈ پھیکی چپل ٹوٹی تھوڑی چاٹی جڑی بوٹی
چھوٹے گاؤں سے نکل کر تیرا بھائی بستا سیر میں
یہ تو گرب کی بات تے بلکل بورے حالات تے
ساتھ دینا تو دور تا سالے اپنے خلاف تے
میرے سپنے کافی بڑے تھے بر مسکل تھے راستے
میں نے ہار نہیں مانی اپنے پریوار کے واسطے
میں نے ہار نہیں مانی اپنے پریوار کے واسطے
چھوٹے تو چڑھنا کھانے کھان بھڑھنا
اٹھنا ہم بعد میں سیکھیں پہلا سکھا گرنا
گاڑی نولیج بارکت سیکنڈ میں موڑ دوں کیا
ادھر چیکنگ چل رہی ناکے وا کے توڑ دوں کیا
بندی خاص بیٹھی پاس جادہ کر رہی ہے بکباس
جرہ پانچ منٹ روپ جائے اس کو بیچ روڑ پہ چھوڑ دوں کیا
گام میں کالی گاگی کھیت میں کالا گھوڑا
کئی آنکے پاڑ دینے پلٹر ساتھ بابا گھوڑا
بھائی آنکے سر کل کے کوئی لگا دے گا ہاتھ رنا
ماں کی قسم اس نے کر دے کوڈا آج تل کے اٹھ کے چائے کے سر کوپی
کھالی بڑی بھٹکی بھٹکی وائب سالی چٹکی چٹکی وائب میرے ماتھے میں گھومے
تھی میں نے گانا لکھنے کے لیے اپنی کوپی ٹھالی انسان ماسک کا
تھیلا ہے بینا ہڈی کے سہارے سالا کھڑا نہیں ہو پاتا پر یہ بات اس
گھنڈو کو بھلا کیسے بتا ہوگی جس نے رنگ بھومی میں جا کے دشمن ایک
بھی نہیں کٹا ہو میں چھوڑا پورا آخٹ ہو کر کیل کی تھوتھ پے سولے مو
کوئی گنڈی تھوڑی ہے بھائی تیرا مرد ہے کوئی بندی
تھوڑی ہے کوئی آئے گا بجھ جائے گا اور نکل لے گا
اب چوٹی ہے یہ سائیکل کی گھنٹی تھوڑی ہے رنگ توڑی
ہے جس کی چمڑی گوری ہے پھر بھی بندری گوڑی ہے
ادھر یو پی کے لڑکے کا سین ہی غلط ہے سالا جو بھی بھیڑا
ہے وہ سیدھا نہیں سو پاتا بری طرح پچھوڑے میں لکڑی
تھوڑی ہے بڑی کوٹھی بڑا کھیت مرا جھوٹی بڑا گیٹ
روڈ پچ پنڈ بیگا ایک بیگا پچ پنڈ ریٹ چیک میں چھوڑتے
تو چڑھنا خامخاں بھڑنا اتنا ہم بعد میں سیکھے پہلا سکھا گرنا
چھوڑتے تو چڑھنا خامخاں بھڑنا اتنا ہم بعد میں سکھے پہلا سکھا گرنا