بے خیالی میں بھی تیرا ہی خیال آئے
کیوں بچھڑنا ہے ضروری یہ سوال آئے
تیری نزدیکیوں کی خوشی بے حساب تھی
حصے میں فاصلے بھی تیرے بے مثال آئے
میں جو تم سے دور ہوں کیوں دور میں رہوں تیرا غرور ہوں
آہ تو فاصلہ مٹا تو خواب ساملہ کیوں خواب توڑ دوں
موسیقا
ہے یہ تڑپن ہے یہ الجن کیسے
جیلوں بھی نہ تیرے میری اب سب سے ہے انبن بنتے جانے خدا میرے
یہ جو لوگ باغ ہے جنگل کی آگ ہے کیوں آگ میں جلوں
یہ ناکام پیار میں ہل ہے یہ ہار میں ان جیسا کیوں بنوں
موسیقا
راتیں دیں گی بتا نیدوں میں تیری بات ہے بھولوں
کیسے تجھے تو جو خیالوں میں ساتھ ہے بے خیالی میں بھی تیرا ہی خیال آئے
کیوں بچھڑ نہ ہے ضروری یہ سوال آئے تیری نزدیکیوں کی خوشی
بےمثال تھی حصے میں خاصلے بھی تیرے بےمثال آئے
تیری نزدیکیوں